سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 6
4 3 ابتدائی حالات اور قبولیت اسلام میرا نام سعد ہے میرے والد کا نام (ابو وقاص ) مالک اور والدہ کا نام حمنہ تھا۔والد کی نسبت سے میرا سلسلہ نسب پانچویں پشت پر اپنے آقا حضرت اقدس محمد اللہ سے جاملتا ہے۔حضرت رسول اکرم ﷺ کی والدہ حضرت سیدہ آمنہ علیھا السلام بھی میرے خاندان بنوزہرہ میں سے تھیں۔اور میرے والد کی چچا زاد بہن لگتی تھیں۔والدہ کے خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے محمد رسول اللہ اللہ مجھے ماموں کہا کرتے تھے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ کی والدہ میرے والد کی حقیقی بہن تھیں۔اس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے خاندان سے میرا دو ہرا تعلق بنتا ہے۔میری والدہ قریش کے قبیلہ بنو امیہ میں سے تھیں اور حرب بن امیہ کی پوتی اور ابوسفیان کی چچا زاد بہن تھیں۔میری پیدائش آنحضرت علی کی پیدائش سے تقریباً 21 سال بعد سن 592ء میں ہوئی۔مجھے اسلام کے آغاز پر ہی ایمان لانے کی توفیق مل گئی تھی۔صلى الله میرے بڑے بھائی کا نام عقبہ بن ابی وقاص تھا۔وہ بہت پہلے یثرب چلا گیا تھا۔اسے اسلام قبول کرنے کی توفیق نہیں ملی۔میرا ایک چھوٹا بھائی عمیر بن ابی وقاص تھا جو مکی دور میں ہی مسلمان ہو گیا تھا۔اس نے میرے ساتھ ہجرت کی تھی اور آخر کار بدر کی جنگ میں بہادری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔حضرت محمد ﷺ نے چالیس سال کی عمر میں جب مکہ میں نبوت کا دعویٰ فرمایا اس وقت میں 19 سال کا تھا۔حضرت ابوبکر ایمان لانے میں سب پر سبقت لے گئے۔مجھے اسلام کا پیغام حضرت ابوبکر کے ذریعے سے پہنچا۔حضرت ابوبکرؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے حضرت عثمان بن عفان حضرت زبیر بن العوام حضرت عبدالرحمن بن عوف مجھے اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو تبلیغ کی اور ہم سب ایمان لے آئے۔مسلمان ہونے سے پہلے میں نے ایک بار خواب میں دیکھا کہ گویا میں تاریکی میں ہوں مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا ایک دم میرے سامنے چاند روشن ہو گیا اور میں اس کے پیچھے چل پڑا۔میں نے دیکھا کہ مجھ سے پہلے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابوبکر بن قحافہ پہلے ہی وہاں پہنچ چکے ہیں۔میں نے پوچھا آپ لوگ اس جگہ کب پہنچے؟ انہوں نے جواب دیا، ابھی۔چنانچہ اسی طرح ہوا جس طرح خواب میں دکھایا گیا تھا۔کیونکہ حضرت علیؓ اور حضرت زید حضرت رسول کریم ﷺ کے گھر میں بچوں کی طرح رہ رہے تھے۔اس لئے انہیں سب سے پہلے محمد رسول اللہ ﷺ کے دعوی نبوت کا علم ہوا اور وہ ایمان لے آئے باہر کے لوگوں میں حضرت ابوبکر نے سنا تو وہ ایمان لے آئے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر کے ذریعہ اسلام کا پیغام ہم تک پہنچا اور ہم پانچ نوجوان ایمان لے آئے۔ہمارے بعد قدرے جلدی جو لوگ اسلام کی آغوش میں آئے ان میں ابو عبیدہ بن الجراح عبیدہ بن الحارث ابو حذیفہ بن عتبہ سعید بن زید عثمان بن مظعون، عبداللہ بن جحش، عبید اللہ بن جحش (جو بعد میں عیسائی ہو گئے ، عبداللہ بن مسعود بلال بن رباح، عامر بن فہیرہ خباب بن الارت عمار بن یاسر صہیب رومی ارقم بن ابی ارقم اور ابوذر غفاری شامل ہیں۔شروع میں ہی ایمان لانے کی وجہ سے مجھے حضرت اقدس صلى الله