سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 5 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 5

2 1 تعارف حضرت سعد بن ابی وقاص قریش کے قبیلہ بنی زہرہ میں سے تھے۔یہ وہی قبیلہ ہے جس میں ہمارے پیارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ علیھا السلام تھیں۔حضرت سعد کی پیدائش مکہ میں ہوئی وہ 19 سال کی عمر میں مسلمان ہوئے۔ان کا شمار بہت ابتدائی صحابہ میں ہوتا ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جن دس خوش نصیب صحابہ کو بطورِ خاص جنت کی بشارت دی ان میں حضرت سعد بھی شامل ہیں۔ہجرت مدینہ تک سعد مکہ میں رہے اور آنحضرت ﷺ اور باقی صحابہ کے ساتھ قریش کے مظالم کو صبر اور بہادری سے برداشت کرتے رہے۔جب ہجرت مدینہ ہوئی تو سعد بھی مدینہ ہجرت کر گئے۔الله ہجرت مدینہ کے بعد سعد تمام غزوات النبی ﷺ میں شامل ہوئے۔غزوہ اُحد میں حضور علیہ نے زخمی حالت میں جن صحابہ کے ساتھ مل کر دفاع کیا ان میں سعد بھی شامل تھے۔انتہائی خطرے کے عالم میں حضور علیہ انہیں تیر پکڑاتے رہے اور وہ اپنی کمان سے دشمن پر تیر پھینکتے رہے اور آنحضرت ﷺ ساتھ ساتھ سعد کو دعائیں دیتے رہے۔حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں سعد نجد میں بنو ہوازن سے زکوۃ وصول کرنے پر مقرر تھے اور عامل کہلاتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ایران اور شام میں حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالار بنا کر بھیجا گیا۔انہوں نے دونوں عظیم طاقتوں کی یکے بعد دیگرے بنیادیں ہلا دیں۔حضرت عمر کی خلافت کے آغاز پر دونوں محاذوں پر لڑائیاں جاری تھیں۔زیادہ زور شام کے محاذ پر تھا۔شام کے محاذ پر ابوعبیدہ بن الجراح کو سپہ سالار اعظم بنایا گیا۔جب مسلمان شام میں نمایاں فتوحات حاصل کر رہے تھے اس دوران ایران (عراق) میں خطرات بڑھ گئے۔کسری فارس نے بہت بھاری تعداد میں فوجیں اکٹھی کیں جن میں گھوڑے ہاتھی ( بلکہ ایک موقع پر شیر ) بھی شامل تھے تا کہ ایک ہی وار میں مسلمانوں کو نیست و نابود کر دیا جائے۔اس وقت پہلے حضرت عمرؓ نے خود عراق کے میدان جنگ میں اترنے کا ارادہ کیا۔لیکن پھر صحابہؓ کے مشورہ پر خود دارلخلافہ مدینہ میں رہنا منظور فرما لیا اور ایران (عراق) کے محاذ کے لئے حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتخاب کیا اور سپہ سالار بنا کر قادسیہ کے میدان میں بھیجا۔جہاں حضرت سعد بن ابی وقاص نے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے اور کسری فارس کا دارالحکومت مدائن حضرت سعد کے ہاتھوں فتح ہوا۔اپنی وفات سے قبل حضرت عمرؓ نے چھ اصحاب رسول ع پر خلافت ثالثہ کے انتخاب کے لئے جو کمیٹی مقرر فرمائی۔ان میں حضرت سعد کا نام بھی شامل فرمایا۔حضرت عثمان کی خلافت کے دوران بھی سعد کو خدمات کی توفیق ملتی رہی۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد سعد گوشہ نشین ہو گئے اور ایک لمبا عرصہ عبادات اور دعاؤں میں گزارا۔سن 55 ھجری میں مدینہ سے دس میل دور عقیق کے مقام پر حضرت سعد نے وفات پائی۔انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔آؤ بچو! آپ کو حضرت سعد بن ابی وقاص کی کہانی ان کی زبانی سنائیں۔ย مشتمل