حضرت رقیہ ؓ

by Other Authors

Page 7 of 18

حضرت رقیہ ؓ — Page 7

حضرت رقیہ بنت حضرت محمد مالی ایک مرتبہ ایک عجیب بات لوگوں کو بتائی جو پوری ہوئی۔ایک حدیث میں ذکر ہے کہ آنحضور ملالہ ، حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان اُحد پہاڑ پر چڑھے ہوئے تھے کہ پہاڑ لرزنے لگا تو آنحضور ﷺ نے اپنا پاؤں پہاڑ پر مارا اور فرمایا ” اُحد ٹھہر جاتم پر کوئی اور نہیں بلکہ ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں، آنحضور ﷺ کی وفات کے کئی سال بعد حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کو شہید کیا گیا اور اس طرح یہ بات پوری ہوگئی۔(12) حضرت رقیہ نیک بخت اور خوش نصیب تھیں۔جس طرح حضرت خدیجہ نے آپ کو ناز و نعم سے پالا تھا اسی طرح حضرت عثمان نے بھی آپ کو بڑے آرام سے رکھا۔شادی کے وقت حضور ﷺ نے اپنی ایک خادمہ جو حضور ﷺ کو وضو کرایا کرتی تھی حضرت رقیہ کو دے دی۔(13) الله الله ایک دوسرے کی قدر وعزت، محبت و وفا، فرائض کی ادائیگی، حسن معاشرت ، خاندانی و جاہت، تقوی ، دینداری اور پاکیزگی وحیا میں یہ جوڑ ا مثالی تھا۔حضرت عثمان اپنی بیوی کی خوبیوں کی تعریف فرماتے تھے۔ایک دفعہ رسول پاک ملے آپ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت رقیہ اپنے ہاتھوں سے حضرت عثمان کا سر دھو رہی تھیں (14)غرض