حضرت رقیہ ؓ — Page 6
حضرت رقیہ بنت حضرت محمد عل الله ہی اسلام قبول کر لیا یہ اس تعلیم و تربیت ، خوش اخلاقی اور شفقت کا نتیجہ تھا جو بچپن سے آپ کے ذہن میں بسی ہوئی تھی۔جب حضرت رقیہ کا پہلا نکاح ختم ہو گیا تو رسول پاک ﷺ نے آپ کے لیے حضرت عثمان غنی کا رشتہ تجویز کیا۔حضرت عثمان خاندان قریش کے ایک عالی نسب اور با حیاء انسان تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں جاہلیت میں بھی عزت عطا فرمائی۔ان کا نسب رسول اللہ علیہ سے جا ملتا تھا۔آپ خوب صورت اور خوب سیرت نو جوان تھے۔آپ کا شمار مکہ کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔وہ ایک نہایت صالح نوجوان تھے۔جب انہوں نے ابوبکر صدیق کے ذریعہ اسلام قبول کیا تو رسول پاک ﷺ نے انہیں اپنی دامادی کے لیے منتخب فرمایا۔حضرت عثمان کی اپنی دلی خواہش بھی یہی تھی۔چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے مکہ ہی میں حضرت رقیہ کی شادی حضرت عثمان سے کر دی۔(10) شادی کے موقع پر رسول اللہ ملے نے رقیہ کو حضرت عثمان کا خیال رکھنے اور احسن سلوک کرنے کی نصیحت فرمائی۔آپ ﷺ نے فرمایا " عثمان اپنے اخلاق میں دوسرے صحابہ کی نسبت مجھ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔(11) یہ الفاظ کو کہ حضرت رقیہ کے لیے بہت تسکین کا باعث ہوئے ہوں گے مگر یہ فقرے محض دلجوئی کے لئے نہیں کہے گئے تھے بلکہ حقیقت بیان کی گئی تھی۔آپ ﷺ نے صلى الله 66