الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 577
546 عالمگیر ایٹمی تباهی ا تباہی ان گنت ایٹمی دھماکوں کے نتیجہ میں ہی ممکن ہے جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان اس وقت تک نصیحت نہیں پکڑے گا جب تک یہ تباہی اس کے کبر کو پارہ پارہ نہ کر دے۔وعید کے اس افسوس ناک پیغام کے ساتھ ساتھ اس سے امید کی ایک کرن بھی پھوٹتی ہے کہ بنی نوع انسان آخر کار بیچ کر روشنی کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔انسان اپنے اطوار میں اگر بر وقت تبدیلی پیدا نہ کر سکا تو خدا تعالیٰ کے انکار اور اپنی حماقتوں کے نتائج کا کسی قدر مزہ چکھنے کے بعد بالآخر تو بہ کر ہی لے گا۔ایک اور سورۃ میں قرآن کریم ایسی خوفناک اور عظیم جغرافیائی اور موسمی تبدیلیوں کا ذکر کرتا ہے جو کئی خطوں، ملکوں اور براعظموں کو سکلیۂ بنجر کر کے رکھ دیں گی۔غالباً اس کا تعلق ایٹمی تباہی کے بعد کے اثرات سے ہے جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔اس سے پہلے یہی زمینیں دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کی جاتی تھیں اور اپنی بے مثل خوبصورتی کی وجہ سے مشہور تھیں۔ہماری خواہش ہے کہ کاش پیشگوئیوں کا کم سے کم یہ حصہ تو نہ ہی پورا ہو۔اس کا یقیناً یہ مطلب نہیں کہ ہم قرآنی پیشگوئیوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ ہماری یہ خواہش خدا تعالیٰ کی بے پایاں رحمت پر ہمارے غیر متزلزل ایمان سے پھوٹ رہی ہے جو بہت معاف کرنے والا اور بڑا رحیم و کریم ہے۔تمام وعید میں خواہ کتنی ہی واضح اور دوٹوک کیوں نہ ہوں انسان کے اپنے عمل سے مشروط ہیں۔حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کس طرح اپنی حالت میں تبدیلی لانے کے باعث خدا تعالی کی تقدیر مبرم سے بچائی گئی تھی، یہ مثال ہمارے لئے امید کی شمع روشن کرتی ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ انسان کی اخلاقی اقدار میں مسلسل انحطاط ہو رہا ہے اس خوش فہمی کا کوئی جواز تو نہیں بنتا مگر انسان کم از کم امید کا دامن تو تھام سکتا ہے۔ورنہ سخت مایوسی اور نا امیدی کی بھیانک رات تو سامنے کھڑی ہے۔مگران گہرے امراض کا علاج ہستی باری تعالیٰ کے منکر ملحد مسیحاؤں کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس کا واحد علاج صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بشرطیکہ ہمارے ہاتھ ہمیشہ دعا کیلئے اس کے حضور اٹھے رہیں۔شاید ہم ایک ایسی زبان بول رہے ہیں جسے عصر حاضر کے انسان کیلئے سمجھنا مشکل ہے۔کیونکہ اس کے کان اس کے برعکس زبان سننے کے عادی ہو گئے ہیں۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔