الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 578
جینیاتی انجنیئرنگ موجودہ دور میں جینیاتی انجنیئرنگ (Genetic Engineering) کے ذریعہ حیات کی بعض خصوصیات کو تبدیل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔لیکن مندرجہ ذیل آیات کے نزول کے وقت تو یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی: وَقَالَ لا تَخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مفروضات وَ لَأَصْلَلَهُمْ وَلَا مَيِّينَهُمْ وَلَا مُرَ لَهُمْ فَلَيُبَتِكُنَّ أَذَانَ الْأَنْعَامِ (النساء 119:4-120) ترجمہ: اس نے کہا کہ میں تیرے بندوں میں سے ضرور ایک معین حصہ لوں گا۔اور میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا اور ضرور انہیں امیدیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں حکم دوں گا تو وہ ضرور مویشیوں کے کانوں پر زخم لگائیں گے۔یہاں جانوروں کی دم کاٹنے یا کان چھیدنے سے ان کا مثلہ کرنا مراد نہیں ہے بلکہ اس جگہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کے اس رواج کا ذکر ہے جس میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھانے کیلئے جانوروں کے کان چھید کر نشان زد کیا جاتا تھا۔لیکن اسی آیت میں آگے جس بات کا ذکر ہے وہ بہت ہی انوکھی اور انقلابی نوعیت کی ہے۔اس آیت کے آخر پر شیطان کی طرف ایک اور گھناؤنے ارادہ کو منسوب کیا گیا ہے کہ وہ انسان کو خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ماہیت تبدیل کرنے پر اکسائے گا۔چنانچہ آگے مذکور ہے: ولا مرَ لَهُمْ فَلَيغَيرنَ خَلَقَ اللهِ وَمَن يَتَّخِذِ الفَيْطَنَ وَلِيًّا مِنَ دُونِ اللهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينا ( النساء 120:4) 547