الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 576 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 576

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 545 ترجمہ: اور ان کے پاس کچھ خبریں پہنچ چکی تھیں جن میں سخت زجر و توبیخ تھی۔کمال تک پہنچی ہوئی حکمت تھی۔پھر بھی انذار کسی کام نہ آئے۔اگر کوئی قوم سبق حاصل نہ کرے تو اپنی اس خوفناک تباہی کی وہ خود ذمہ دار ہوگی جو ان کی منتظر ہے۔جس ایٹمی تباہی کا ہم ذکر کر رہے ہیں ، سورۃ طہ میں بھی اس کے انجام کے بارہ میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تباہی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کا غرور اور رعونت پاش پاش کر کے رکھ دے گی۔انسان کو بحیثیت مجموعی صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا جائے گا۔متعلقہ آیت میں واضح طور پر یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ موقع بنی نوع انسان کے کلیۂ خاتمہ کا نہیں ہوگا بلکہ متکبر سیاسی طاقتیں سرنگوں کی جائیں گی اور ان کے مقبروں پر نظام نو کی بنیادیں اٹھائی جائیں گی۔پہاڑوں جیسی عظیم عالمی طاقتیں اس طرح خاک میں ملا دی جائیں گی جیسے وہ ایک چٹیل میدان ہو جس میں کوئی نشیب وفراز نہیں ہوتا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَدْرُهَا قَاعًا صَفْصَفَان لَّا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْنٌاتٌ يَوْمَبِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا (109-106:20) ترجمہ: اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کر دے گا۔پس وہ انہیں ایک صاف چٹیل میدان بنا چھوڑے گا۔تو اس میں نہ کوئی کبھی دیکھے گا اور نہ نشیب و فراز۔اس دن وہ اس دعوت دینے والے کی پیروی کریں گے جس میں کوئی کبھی نہیں۔اور رحمان کے احترام میں آوازیں نیچی ہو جائیں گی اور تو سر گوشی کے سوا کچھ نہ سنے گا۔خدا تعالیٰ جو کجیاں دور کرنے والا کامل خدا ہے ان کی کجیاں اور اونچ نیچ ختم کر دے گا اور اسی کی قدرت سے یہ حیرت انگیز انقلاب برپا ہو گا۔یہاں پہاڑوں سے استعارہ حکومتیں اور اقوام مراد ہیں جن کے بارہ میں قرآن کریم پیشگوئی فرماتا ہے کہ جب ان کا غرور توڑ دیا جائے گا اور بالآخر وہ ذلیل و رسوا کر دیئے جائیں گے اور ان کے سب کس بل نکل جائیں گے تب کہیں جا کر وہ خدا تعالیٰ کے نہایت ہی منکسر المزاج منادی کی آواز پر لبیک کہیں گے جس میں کوئی کبھی نہیں۔یہ