الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 575 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 575

544 عالمگیر ایٹمی تباهی مبذول کراتا ہے جو اسے دباتی ہے۔قرآن کریم کی تنبیہات کا یہی مقصد ہے۔اس طرح وہ بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ انسان پر ہونے والے ہر ظلم کا ذمہ دار در اصل انسان ہی ہے۔پس قرآن کریم کی رو سے اس سلسلہ میں کئے جانے والے حفاظتی اقدامات کا تعلق انسانی کردار کی اصلاح ہے۔یعنی اگر لوگ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور الہی ہدایت کے مطابق اپنی اصلاح کریں تو اس سے وہ صحت مندانہ ماحول پیدا ہو گا جو عدل وانصاف کی بقا کیلئے ضروری ہے۔قرآنی پیشگوئیاں روشنی کے ایک مینار کی حیثیت سے پیش آمدہ خطرات اور ان سے بچنے کے طریقوں کی طرف واضح رہنمائی کرتی ہیں لیکن بظاہر یہ بات محال نظر آتی ہے کہ انسانی معاملات کی کشتی کے ناخدا اس تنبیہ پر کان دھریں گے اور انسان کو ان خطرات سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر لے جائیں گے۔اور یہی تباہی کی اصل وجہ ہے۔انسانی رویہ کے تمام پہلوؤں کا حقیقت پسندانہ اور تنقیدی جائزہ لئے بغیر آج کے انسان کو در پیش مسائل کا کوئی بھی قابل عمل حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔الغرض ان مسائل کا حل بنیادی انسانی اقدار کی بحالی میں مضمر ہے۔مثلاً سچائی ، دیانت، ایمانداری، انصاف، دوسروں کا خیال رکھنا ، لوگوں کی تکلیف کا احساس خواہ ان سے کوئی رشتہ نہ ہو اور نیکی کے ساتھ عمومی وابستگی۔ان اقدار کو انسانی تعلقات کے دائرے سے نکال دیں تو پھر خوفناک آفات سے کوئی مفر نہیں۔اور اس صورت حال کا یہی واحد اور منطقی نتیجہ ہے۔سورۃ القمر میں اس امر کی وضاحت گزشتہ اقوام کی تاریخ کے حوالہ سے کی گئی ہے جنہوں نے اپنے وقت کے انبیاء کے اندار پر کان نہ دھرا۔تمھیے وہ اپنے المناک انجام کو پہنچیں جس کا انہیں وعدہ دیا گیا تھا اور وقت گزرنے کے بعد کی تو بہ ان کے کسی کام نہ آئی۔اس انذار سے یہ فائدہ ضرور حاصل ہوا کہ وہ آئندہ نسلوں کیلئے عبرت کا نشان بن گئیں۔چنانچہ قرآن کریم ان کے المیہ کی طرف اس لئے اشارہ کرتا ہے تا ان کی موت سے آئندہ نسلیں صحیح انداز سے زندگی بسر کرنے کا فن سیکھ سکیں۔وَلَقَدْ جَاءَ هُم مِّنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرَّة حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُة ( القمر 5:54-6)