الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 574

الهام ، عقل ، علم اور سچائی الله 543 بداعمالیوں کے المناک نتائج سے آگاہ کیا جائے۔مذکورہ بالا پیشگوئیاں واضح طور پر عصر حاضر سے تعلق رکھتی ہیں جن میں ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے پرانے زمانہ کے لوگ کلیۂ بے خبر تھے۔انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کسی تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام پیشگوئیوں کی خبر آنحضرت ﷺ کو پہلے سے دے دی تھی۔لیکن جس وضاحت کے ساتھ آپ کے مستقبل کے واقعات کو بیان فرماتے ہیں اس سے بڑا قومی تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام واقعات آپ ﷺ کے سامنے کسی فلم کی طرح گزر رہے ہیں۔تا ہم بنی نوع انسان کو ان پیشگوئیوں کے ظہور کیلئے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑا اور ان واقعات کا ظہور موجودہ ایٹمی دور میں ہی ممکن ہوا۔ایٹمی تباہی کا تصور بہت ہولناک ہے لیکن انسان نے اس کے اسباب کا کھوج لگانے کی طرف بہت کم توجہ دی ہے۔آدمی کی نظر عموما سطحی معاملات تک ہی محدود رہتی ہے۔بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے گریبان میں جھانک کر برائی کی شناخت کر سکتے ہیں۔یہ اندھا پن بطور خاص انسان کی سکج روی سے تعلق رکھتا ہے۔اپنے ماحول میں مصائب اور برائیاں پھیلانے کے باوجود انسان اپنے آپ کو بھی اس کا ذمہ دار نہیں گردانتا۔انہی عالمگیر آفات کا ہم اس وقت تجزیہ کر رہے ہیں۔ایک سائنسدان ایٹمی دھماکوں کے پیچھے کارفرما عوامل کی تشریح محض مادی اور طبعی اسباب کی حد تک ہی کرتا ہے۔مگر جب اس قسم کے تباہ کن ہتھیاروں کو انسان کی امن و سلامتی کی تباہی کیلئے استعمال کیا جائے تو ایسے ہتھیاروں کے موجد سائنسدانوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔بلکہ اصل وجہ کچھ اور ہوتی ہے۔یہ دراصل بڑی بڑی عالمی طاقتیں ہی ہیں جو عالمگیر سطح کے ظالمانہ اور نامعقول فیصلوں کی ذمہ دار ہیں۔تاہم اپنی تمام تر عظمت کے باوجود ان کی حیثیت خود غرض عوام کی اجتماعی سوچ کے ہاتھوں کھیلنے والے مہروں سے زیادہ نہیں ہے۔قرآن کریم اگر چہ ان سائنسی عجائبات کا بڑے معین رنگ میں ذکر فرماتا ہے لیکن سائنس کے کسی معلم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ہماری توجہ اس حقیقت کی طرف بھی مبذول کراتا ہے کہ انسان کے مسخ شدہ رویہ کے اصل اسباب دراصل غیر اخلاقی محرکات ہوا کرتے ہیں۔قرآن کریم نہ صرف ان پوشیدہ محرکات کو بیان کرتا ہے بلکہ ہماری توجہ ان کے پیچھے کارفرما قوت پر بھی مرکوز کرتا ہے۔یعنی وہ بندوق کی لبلبی کا ذکر تو کرتا ہے لیکن ہماری توجہ اس انگلی کی طرف بھی ہے