الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 286
الهام ، عقل ، علم اور سچائی كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ الرحمن 27:55-28) ترجمہ: ہر چیز جو اس پر ہے فانی ہے مگر تیرے رب کا جاہ و حشم باقی رہے گا جو صاحب 279 جلال واکرام ہے۔عنطر اپی کے عمل اور وجود کائنات کے معمہ کے حل کی صرف ایک ہی صورت ہے اور یہ وہ حل ہے جسے قرآن کریم نے چودہ سو سال قبل پیش فرما دیا تھا۔یہ ایک ایسی کائنات نہیں جس کے تخلیقی عمل میں گزشتہ بچا ہوا مادہ استعمال کرنا پڑے۔بلکہ خالق کا ئنات اس کا ئنات کو ہر بار از سرنو تخلیق کرتا ہے اور جب ایک کائنات اپنی تخلیق کا مقصد پورا کر لیتی ہے تو خدا تعالیٰ اسے ختم کر دیتا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ اعلان اس وقت فرمایا جب دنیا میں جہالت کا دور دورہ تھا۔ایسے اعلانات ہی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح امور غیب کے اسرار ایک تسلسل کے ساتھ شہود میں بدلتے چلے جاتے ہیں۔اگر چہ سیا اسرار ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ تک پوشیدہ رہے اور ان کی کنہ تک نہیں پہنچا جاسکا۔لیکن تحقیق و جستجو کے اس جدید دور میں یوں کھل کر سامنے آگئے جیسے ان کا ہمیشہ سے اس دور سے ہی تعلق رہا ہو۔ایک اور امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند صدیوں میں سائنس کی عظیم الشان ترقیات کے باوجود اس صدی کے آغاز تک سائنسدان اس بات کے قائل تھے کہ ایٹم کو توڑا نہیں جاسکتا۔کچھ عرصہ تک تو وہ اسی نظریہ پر قائم رہے لیکن بالآخر وہ ایٹم کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ایٹم بم سے دنیا میں ہونے والی تباہی کے ساتھ ہی ایٹم کے غیر فانی ہونے کا نظریہ بھی دم توڑ گیا۔بعد ازاں پروٹان کے متعلق بھی یہی نظریہ پیش کیا گیا کہ اسے توڑنا محض حسابی امکان ہے، عملاً ایسا نہیں ہو سکتا۔بہت زیادہ اخراجات سے تیار کی گئی گہری، زمین دوز تجرباتی سرنگوں کے ذریعہ اب تھوڑے تھوڑے کمزور سے شواہد ملنا شروع ہوئے ہیں کہ پروٹان کو توڑنا بھی ممکن ہے اور اس کی ممکنہ توڑ پھوڑ کے مشاہدہ کیلئے بہت وسیع اور مہنگے تجربات کئے جا رہے ہیں تا کہ ثابت کیا جا سکے کہ پروٹان کو توڑا جا سکتا ہے۔اور اس کی عمر کا اندازہ لگانے کیلئے سائنسدانوں کو اب محض تھوڑا سا وقت درکار ہے۔پروٹان کی توڑ پھوڑ کیسے اور کس شکل میں ہوتی ہے اور کیا اس کے بعد اسی مادہ سے دوبارہ