الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 285
278 عنطراپی اور محدود کائنات کر دینے والی عنطر اپی کے ہاتھوں اب تک کیسے بچے ہوئے ہیں؟ اور ایک بار معدوم ہو جانے کے بعد ہم عدم سے وجود میں کیسے آگئے؟ یہ صرف خالق کا ئنات کی ذات ہی ہے جس تک عطر اپی کی رسائی نہیں۔اس کی ہستی ہر اس چیز سے مختلف ہے جسے وہ پیدا کر چکا ہے یا آئندہ کرے گا۔جو نہی یہ فرض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جیسی کوئی ہستی پیدا کی ہے تو اسی وقت اس کا ازلی ابدی ہونے کا دعویٰ رد ہو جاتا ہے۔چنانچہ ہم بلیک ہول یا عنطر اپی کا ذکر مخلوق کے حوالہ سے کرتے ہیں نہ کہ خالق کے مخلوق اپنے لئے کوئی خالق تجویز نہیں کر سکتی۔اس لئے لازما خالق کو ہی ہر تخلیق کی علت العلل قرار دینا پڑے گا۔بلیک ہول سے ہر بار جنم لینے والی نئی کائنات کی تخلیق کا یہ نظریہ بند کائنات (Shut Universe) کا نظریہ کہلاتا ہے۔اس نظریہ کے مطابق کا ئنات پھیل تو رہی ہے لیکن یہ ہمیشہ اسی طرح نہیں پھیلتی رہے گی بلکہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اس پھیلاؤ کی ذمہ دار مرکز گریز قوت (Centrifugal Force) اپنے سے زیادہ طاقتور مرکز مائل (Centripetal) کشش ثقل کے برابر ہو جائے گی۔نتیجہ کائنات پھیلنے کی بجائے سکڑنے لگے گی۔جو سائنسدان 'بند کائنات کے نظریہ کی بجائے وسعت پذیر کائنات (Open Universe) پر یقین رکھتے ہیں ان کے خیال میں کائنات کا مادہ ہمیشہ پھیلتا ہی چلا جائے گا۔یہاں تک کہ کسی مرکزی قوت کشش کے تابع واپس اکٹھا نہیں ہو سکے گا۔چنانچہ خلا کے ہر حصہ میں توانائی کی مقدار اتنی کم ہو جائے گی کہ کسی نئے بلیک ہول کی تشکیل ناممکن ہو جائے گی۔کائنات کے متعلق اس نظریہ کو قبول کرنے کے باوجود بھی عطر اپی سے جان نہیں چھوٹی۔کائنات خواہ کتنی ہی پھیل جائے اور اس پر کتنا ہی طویل وقت کیوں نہ گزر جائے بالآخر عطر اپی کے ہاتھوں سے بچ نہیں سکتی۔کیونکہ مادہ جہاں بھی موجود ہے عطر اپی اس پر ضرور اثر انداز ہوتی ہے۔پس کائنات کے متعلق آپ کا جو بھی نظریہ ہو ایک بات تو بہر حال ملے ہے کہ یا بدی نہیں۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: b بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (البقرة 118:2) ترجمہ: وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا آغاز کرنے والا ہے۔اللہ کی ذات کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔