الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 197

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 193 پہنچانے میں متذبذب ہے۔جبکہ اس نے اپنی کتاب مطبوعہ 1904 میں تسلیم کیا ہے کہ آسٹریلیا کے باشندے ایک ایسی کامل ہستی پر ایمان رکھتے تھے جو باپ کا درجہ رکھتی ہے: اور جو بدیہی طور پر دائمی ہے۔کیونکہ وہ تمام اشیاء کے آغاز کے وقت بھی موجود تھی اور اب بھی موجود ہے۔لیکن قدیم باشندوں کے عقیدہ کے مطابق اپنے اس وجود کے ساتھ بھی وہ صرف اسی حالت میں ہے جس میں کہ ہر وہ انسان ہوگا جس کو جادو کے ذریعہ قبل از وقت مار نہ ڈالا گیا ہو۔2 چنانچہ یوں ہووٹ (Howitt) اس مسئلہ کو الجھا کر اس ناگزیر نتیجہ سے بچنا چاہتا ہے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے۔اس کا دعوی ہے کہ: یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا شعوری طور پر کسی نہ کسی شکل میں کوئی مذہب بھی ہے۔3 اس ناگزیر نتیجہ سے بیچ نکلنے کیلئے ماہرین ارتقا کی مایوسانہ کوششوں کی یہ ایک اور مثال ہے۔ہووٹ نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ نہ صرف بے نتیجہ ہیں بلکہ موضوع بحث سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے۔چاہئے تو یہ تھا کہ ماہرین عمرانیات اس سادہ سوال کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے کہ سینکڑوں قبائل میں منقسم آسٹریلیا کے قدیم معاشرہ میں جہاں باہمی رابطوں کی کوئی بھی صورت نہیں تھی ایک بزرگ و برتر اور ازلی ابدی ہستی کا ہر جگہ ایک جیسا تصور کیسے پیدا ہوا۔علاوہ ازیں چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے کہ ان حقائق کی موجودگی میں ان کے ان نظریات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ ہستی باری تعالیٰ کا تصور بہت سی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد پیدا ہوا۔اگر ہم ہووٹ کے اس بلند بانگ دعوی کو تسلیم کر بھی لیں کہ ان لوگوں کا واقعی یہ عقیدہ تھا کہ اگر انہیں جادو کے زور سے نہ مارا جاتا تو ارتقائی منازل طے کرتے وہ اپنے خالق کی طرح ہو جاتے تو بھی ہووٹ کیلئے فرار کی کوئی راہ نہیں رہ جاتی۔اس سے ماہرین عمرانیات کی اس فرضی داستان کی کسی صورت میں بھی تائید نہیں ہوتی کہ خدا کا تصور کسی ارتقا کا نتیجہ ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ہووٹ جیسے شہرت رکھنے والے عالم نے بھی دو بالکل مختلف امور کو