الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 198
194 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور آپس میں گڈمڈ کر دیا ہے یہ نظریہ کہ پہلے انسان نے تو ہمات کا شکار ہو کر بہت سے دیوتاؤں کو مانا اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے ایک خدا پر ایمان لے آیا، اس فرضی بحث سے کوئی تعلق نہیں رکھتا کہ اگر موت انسان کو فنا نہ کر دے تو وہ ترقی کرتے ہوئے دیوتا بھی بن سکتا ہے۔قدیم آسٹریلوی باشندوں کے اس خیال کا موازنہ زیادہ سے زیادہ عہد نامہ قدیم میں مذکور حضرت آدم ، حوا اور سانپ کے اس قصہ سے کیا جا سکتا ہے جس میں سانپ کے بقول خدا تعالیٰ نے حضرت آدم اور حوا کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانے سے محض اس لئے روکا تھا کہ مبادا وہ حیات ابدی میں خالق کے شریک بن جائیں۔قدیم آسٹریلوی باشندوں کے اس نظریہ کی یہودو نصاری کے عقائد سے مماثلت انہیں روایتی مذاہب کے اور بھی قریب لے آتی ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ ہووٹ کو اس مماثلت کی کیوں سمجھ نہیں آئی۔ظاہر ہے کہ یہ انداز آسٹریلیا کے قدیم باشندوں نے خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کو واضح کرنے کیلئے اختیار کیا جس میں پیغام یہ ہے کہ خالق نہ صرف ازل سے ہے بلکہ تا ابد رہے گا۔صرف وہی ہے جو ان صفات سے متصف ہے۔چونکہ ہر انسان فانی ہے اس لئے کوئی بھی ہمیشہ کی زندگی نہیں پاسکتا۔یہ نظریہ انہیں دنیا کے ان توحید پرست مذاہب کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کو بے دین قرار دینے کے جوش میں ہووٹ ایک اور دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ ان کے ہاں عبادت یا قربانی کے کوئی آثار نہیں ملتے۔اس کا یہ تبصرہ زیر بحث مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔وہ ان کے عقائد کو مذہب کا نام دے یا نہ دے لیکن ان کے ہاں ایک ازلی ابدی خالق پر ایمان کو تسلیم کرنے سے تو وہ ماہرین عمرانیات کے اس نظریہ کو بھی باطل ثابت کر دیتا ہے جس کے مطابق خدا کا تصور کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔اس کے اس دعوی کو بعینہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے کسی نہ کسی شکل میں خدا کی عبادت کرتے تھے یا اس کے نام پر قربانی دیا کرتے تھے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اکثر مغربی محققین نے ان لوگوں کی بعض مذہبی رسومات کو بالکل غلط