الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 117

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 117 کچھ بھی نہیں لکھا گیا تھا۔نیز اشوکا کی بدھ مذہب کی نمائندہ حیثیت کو کبھی چینج نہیں کیا گیا۔چنانچہ اب جھگڑ ا صرف مختلف تشریحات کا ہے۔مہاتما بدھ کے حالات زندگی اگر چہ ان کی وفات کے کئی سو سال بعد قلمبند کئے گئے تا ہم تمام محققین کسی قابل ذکر اختلاف کے بغیر متفقہ طور پر ان واقعات کو مستند تسلیم کرتے ہیں۔یہ واقعات ایک نسل سے دوسری نسل تک سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ بدھ کی شخصیت اور ان کے طرز زندگی کے آغاز سے آخر تک ایک تسلسل دکھائی دیتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قرین قیاس ہوگا کہ بدھ اور بدھ مت کے جو حالات دو ذرائع یعنی بدھ کی زندگی کے واقعات اور مزاروں (stupas) پر کندہ تحریرات سے حاصل ہوئے ہیں وہ نسبتاً زیادہ قابل قبول ہیں اور جو نظریات اس کے بر عکس پیش کئے جاتے ہیں انہیں رد کیا جا سکتا ہے۔بہر حال اگر ابتدائی ماخذ ہی باہم متضاد دکھائی دیں تو ایک کو اپنانے اور دوسرے کو رد کرنے میں بہت احتیاط سے کام لینا ہو گا۔بدھ کی زندگی کے بغور مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا طرز زندگی مختلف علاقوں اور زمانوں میں مبعوث ہونے والے دیگر انبیاء سے مختلف نہیں تھا۔تمام انبیاء کے کردار میں ایک ہمہ گیر مشابہت پائی جاتی ہے جو ہمیں بدھ کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔تا ہم بدھ مت کے بنیادی عقائد سے متعلق بدھ کے اقوال و افعال کی مختلف تشریحات سے مشکلات بھی پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً ہمیں اس عام خیال سے اختلاف ہے کہ مہاتما بدھ دہر یہ تھے۔ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بدھ مت خدا کا بھیجا ہوا مذہب ہے اور ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس کے بانی ہرگز دہر یہ نہیں تھے۔بلکہ وہ ایسی شخصیت تھے جنہیں خود خدا نے اپنا پر غام پہنچانے کے لئے منتخب کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے انبیاء مبعوث کئے گئے تھے۔بدھ مت پر تحقیق کرنے والے اکثر علماء اس مشکل سے دو چار ہوتے ہیں کہ بدھ مت کو دنیا کے عظیم مذاہب میں کس طرح شمار کیا جائے؟ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں مذہب کی مسلمہ تعریف سے انحراف کرنا پڑتا ہے تا کہ اس میں دہر یہ فکر و مذہب کی گنجائش نکل سکے۔اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ضابطہ اخلاق کو مذاہب کی صف میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد خدا کے انکار