الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 116
116 بدھ مت کیلئے جو فطری خواہش انسانی روح پر نقش ہے وہ اسے خدا یا کسی اور کی پرستش پر آمادہ کرتی ہے۔چنانچہ بدھ مت کے ماننے والے اس خلا کو پر کرنے کیلئے بدھ کو خدا تسلیم کئے بغیر اس کی رسمی طور پر عبادت کرتے نظر آتے ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تبت میں بدھ مت کی جو شکل پائی جاتی ہے اس میں ما فوق البشر دیوتاؤں یا بھوت پریت وغیرہ کا تصور نہ صرف ایمان کا جزو لا ینفک ہے بلکہ اُن کا پختہ عقیدہ ہے کہ یہ دیوتا اُن سے باتیں بھی کرتے ہیں۔مثال کے طور پر نئے پنچن لامہ کے انتخاب کیلئے بہت سی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں تا کہ دیوتاؤں سے اس بارہ میں رہنمائی حاصل ہو سکے کہ نوزائیدہ بچوں میں سے مستقبل کا پہنچن لامہ کون ہوگا۔نام نہاد بدھ فرقوں میں سے بعض کا دعویٰ ہے کہ مہاتما بدھ خود بھی خدا کے وجود کے منکر تھے۔اپنے اس دعوی کو تقویت دینے کیلئے وہ ہمعصر ہندو پنڈتوں کی مہاتما بدھ سے دشمنی کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ان کے نزدیک یہ دشمنی بہت حد تک ہندوؤں کے خداؤں کے بارہ میں بدھ کے ہتک آمیز رویہ کا نتیجہ تھی۔بدھ مت کے پیرو کار عموماً ان اسباب کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے جن کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جو بدھ پر کئے گئے ظلم وستم کا باعث بنیں۔ان کیلئے یہی کافی ہے کہ بدھ نے خدا کے وجود کا سرے سے ہی انکار کر دیا تھا۔تا ہم تاریخی حقائق کے جائزہ اور بدھ مت کے مذہبی لٹریچر کے گہرے مطالعہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ بدھ ایسے تمام الزامات سے بری الذمہ تھے۔مگر یہ واضح رہے کہ تاریخی حقائق جن کا دونوں مکاتب فکر ذکر کرتے ہیں کافی نہیں۔البتہ اس اشکال کو حالات و واقعات کی روشنی میں بہت حد تک دور کیا جاسکتا ہے۔بدھ مت کا فلسفہ، تعلیمات اور رسومات قریباً پانچ سوسال تک تو سینہ بہ سینه ی منتقل ہوتی رہیں سوائے ان کے جو چٹانوں، پتھروں اور مزاروں پر اشوکا کے عہد ( 273 تا 232 قبل مسیح ) میں کندہ کی گئیں جو اپنے روحانی پیشوا بدھ کے تین سو سال بعد حکمران ہوا۔اور یہ حقیقت نہایت اہم ہے کیونکہ اشوکا کے دور حکومت کی تحریرات کی رو سے بدھ کے فلسفہ اور طرز زندگی پر خوب روشنی پڑتی ہے۔مزید برآں اشوکا نے ہی بدھ کی تعلیمات کو اس وقت تحریری شکل دی جبکہ بدھ مت پر ابھی