الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 118

118 بدھ مت پر ہو؟ ہمارے نزدیک یہ اعتراض ہی درست نہیں ہے۔ہم اس بات کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں کہ بدھ مت منجانب اللہ نہیں ہے۔اپنے نقطہ نگاہ کے حق میں ہم ان ماخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں جن پر بدھ مت کے پیروکار بھی انحصار کرتے ہیں۔ہم ثابت کریں گے کہ ہمارا نقطہ نگاہ بنیادی طور پر زیادہ قابل قبول ہے۔ہم پھر یہی کہتے ہیں کہ بدھ مت مذاہب عالم میں کوئی عجوبہ نہیں ہے۔اس کے بر عکس بدھ مت کے بنیادی خدو خال بھی وہی ہیں جو دیگر الہامی مذاہب کے ہیں۔اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے مغربی محققین بدھ مت کے بارہ میں یہ عام غلط فہمی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں کہ یہ ایک ملحدانہ مذہب ہے۔اس سلسلہ میں ان کی معلومات کی بنیاد زیادہ تر بدھ علماء کے پالی زبان سے کئے گئے تراجم پر تھی جن کے متعصبانہ اور ملحدانہ خیالات نے ان تراجم کو متاثر کیا۔ان مغربی محققین میں سے کم ہی پالی زبان کو سمجھ سکتے تھے جو بدھ کی بنیادی تعلیم کا ماخذ تھی۔علاوہ ازیں بجائے اس کے کہ یہ علماء بدھ مت کے معتبر ذرائع سے خود نتائج اخذ کرتے ان کا میلان مکمل طور پر ان عقائد کی طرف رہا جو بدھ مت کے اکثر فرقوں میں رائج تھے۔مغربی مفکرین کے اس عمومی رجحان کے خلاف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام (1908-1835) نے تنہا آواز بلند کی اور ایک بالکل مختلف نظریہ پیش کیا۔آپ نے دعوی کیا کہ مہاتما بدھ وجود باری پر ایمان رکھتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کیلئے مبعوث فرمایا تھا۔آپ نے ثابت کیا کہ باقی انبیاء کی طرح حضرت بدھ بھی فرشتوں، جنت دوزخ ، قیامت کے دن اور شیطان کے وجود پر ایمان رکھتے تھے۔لہذا یہ الزام کہ حضرت بدھ خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے ، سراسر اختراع ہے۔حضرت بدھ نے دراصل ویدانتا ( وہ مذہبی عقائد اور اصول جو ہندوؤں کی مقدس کتب ویدوں میں موجود ہیں) کی نفی کی تھی اور ہندومت کے خدا کے جسمانی شکل میں ظہور کے عقیدہ کو رڈ کیا تھا۔حضرت بدھ نے برہمنوں پر سخت تنقید کی جنہوں نے اپنی غلط تشریحات سے ہندومت کی الہامی تعلیمات کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی آواز زیادہ دیر تک تنہا نہ رہی اور بہت جلد مغربی محققین کی دوسری نسل کی اکثریت اس سلسلہ میں آپ کے نقش قدم پر چلنے لگی۔ان میں سب سے ممتاز فرانسیسی سکالر ڈاکٹر گستاولے بون Dr۔Gustavr Le Bon (1931-1841) لکھتے ہیں: