الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 47
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 47 ہے۔وہ محض تصورات میں اختلافات کا قائل تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان خیالات کے مابین جو ایک دوسرے کے مخالف ہوں لیکن متضاد نہ ہوں برتری کے حصول کیلئے ایک جدلیاتی کشمکش جاری رہتی ہے۔ہیگل کے نظریہ کے مطابق اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ برتر نظریات گزشتہ جدلیاتی عمل کی پیداوار ہیں۔نتیجہ اس نظریہ کے مطابق ایک نظریہ (Thesis) سے ایک مخالف نظریہ (Antithesis) ابھرتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔اس کے نزدیک بالآخر ایک مطلق نظریہ تک رسائی ہو جائے گی جو معروضی حقیقت کے ادراک کی آئینہ دار ہے۔اس نے یہ طریق کار حصول علم کے لئے منطق کے کردار کو واضح کرنے کیلئے اختیار کیا تاہم اس کے نزدیک حقیقت تک رسائی کا یہ جدلیاتی طریق صرف ایسے نظام حیات میں ممکن ہے جو معروضی ہوں نہ کہ تجریدی۔اس کشمکش کے آخری نتیجہ کو وہ مطلق تصور کا نام دیتا ہے۔حقیقت تامہ یا آفاقی صداقت کے بارہ میں یہ ہیگل کا تصور ہے۔اس کے نزدیک تاریخ تصورات کی تحریک کا نام ہے۔دعوئی (Thesis) اور ضد دعوئی (Antithesis) کا تسلسل ترکیب یعنی Synthesis کی شکل میں تکمیل پاتا ہے۔لینن کے الفاظ میں ہیگل کا نظریہ یہ ہے: زندگی ذہن کو جنم دیتی ہے۔انسانی دماغ فطرت کا آئینہ دار ہے۔اس میں منعکس ہونے والے حقائق کی صحت کو اپنے عمل اور طریق کار سے جانچنے کے نتیجہ میں انسان معروضی صداقت تک پہنچ سکتا ہے۔" 8، اس کے نزدیک کوئی بھی ایسا نظام فکر جو مادی تجربات سے تعلق نہ رکھتا ہو سنجیدہ توجہ کا مستحق نہیں۔اس لئے اس کی اہمیت کو زیر بحث لانا ایک علمی مشغلہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔یہ مارکس ہی تھا جس نے ہیگل کے فلسفہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے انسان کو ایک ایسا ضابطہ حیات دینے کا تجربہ کیا جو اس کے نزدیک مجر و عقل پر منی تھا۔آغاز میں یہ ایک خاصہ سیکولر تصور تھا جو معاشرہ میں جلد ہی توجہ کا مرکز بن گیا اور اس طرح انسان کا ایک خود ساختہ قسم کا سیاسی اور اقتصادی مذہب معرض وجود میں آیا جس کی عمارت وجود باری تعالیٰ کے انکار پر اٹھائی گئی تھی۔مار کسی ذہن رکھنے والے دانشور بنیادی طور پر ہیگل کے نقطۂ نظر سے متفق تھے اور ابدی صداقت کے