الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 46
46 فلسفة یورپ انسان کی سزا یہ ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔7 یعنی جب ایک انسان پوری آزادی کے ساتھ خود ایک فیصلہ کرتا ہے تو یہ عمل اس کے لئے ایک نا قابل قبول چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں جو کارگاہ حیات کے لق و دق صحرا میں اس فیصلے میں اس کی رہنمائی کر سکے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ فرشتوں کی موجودگی کو ایک نفسیاتی کیفیت قرار دیتا ہے۔اس کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی الہی آپ کے شدید روحانی کرب ہی کی ایک گونہ تجسیم تھی۔ہم ساتھ یا سارتر ا کی اس وضاحت کو خواہ کتنا ہی غلط کیوں نہ سمجھیں پھر بھی ہم اس کی بے بسی اور مایوسی کے اس شعلہ بیان اظہار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔یہ کیفیت زیادہ تر سارتر ا کی اپنی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جس نے اپنے ملحدانہ فلسفہ کی ویرانیوں میں شدید ذہنی کرب محسوس کیا ہوگا۔وجی کولہی کو روح کی اذیت قرار دینا، در حقیقت ایک ایسا بیان ہے جس سے ایک دہریہ کے نقطہ نظر کے متعلق خوب وضاحت ہوتی ہے بشرطیکہ اس نے کبھی ارواح کے وجود کو تسلیم کیا ہو۔برنارڈ شا جب وحی کو اندرونی آواز قرار دیتا ہے تو مکمل طور پر تو نہیں لیکن کافی حد تک سارتر کے قریب آجاتا ہے۔تاہم برنارڈ شا کا یہ بیان ایک ایسے ڈرامہ نگار کی ذہانت کا آئینہ دار ہے جس میں سارتر ا کی فکری گہرائی اور قوت عنقا ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ سارتر اوحی اور وجدان میں فرق نہ کر سکا بلکہ ان اصطلاحات کا اس کے فلسفہ میں ذکر تک نہیں ملتا۔اس کا فلسفہ محض روح کی اذیت کا اظہار ہے۔ایک ایسا آتش فشاں جس سے وقتاً فوقتاً مایوسی اور نا امیدی کے شعلے اٹھتے رہتے ہیں۔اس کے نزدیک کوئی وحی آسمان سے نہیں اترتی۔یہ سب انسان کی اپنی ہی مایوسیوں کی صدائے بازگشت کے سوا کچھ نہیں۔ہیگل (1770-1831) بھی ایک ملا ادری، فلسفی ہے جسے ہستی باری تعالیٰ کے انکار میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔اس کا فلسفہ براہ راست مذہبی امور سے تعلق نہیں رکھتا۔اس کا ایک نمایاں کام یہ ہے کہ اس نے موضوعیت اور معروضیت کے درمیان پل تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ہیگل ہی وہ شخص ہے جس نے پہلی اور دوسری نسل کے تصورات میں جدلیاتی کشمکش کا نظریہ پیش کیا۔یہ ہیگل کا وہ مشہور نظریہ ہے جس کے مطابق اضداد کے مابین جدلیاتی کشمکش جاری رہتی