الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 48

48 اینگلز Abbasi فلسفة یورپ تصور کے منکر۔ان کے نزدیک حقیقت صرف مادی اور معروضی ہوا کرتی ہے، مطلق نہیں۔کیونکہ مادی حقائق وقت اور حالات کے تابع ہوا کرتے ہیں۔گوسوشلسٹ فلسفیوں میں سے اینگلز (Engols) نے مطلق صداقت کے تصور کو قبول کر لیا لیکن نتیجه با گونوف (Bogdanov) کی ناراضگی مول لے لی۔بالعموم کمیونسٹ مفکرین کے نزدیک حقیقت اس علم کو کہتے ہیں جو وقتی حالات و واقعات کے معروضی مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ان مخصوص شرائط کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کے نزدیک ایسا علم صداقت اور ایسی صداقت علم ہے۔اس لحاظ سے علم کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک مسلسل تغیر پذیر معروضی حقیقت ہے جو ہمیشہ بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت رکھتی ہے۔جلد ہی اس مادہ پرست فلسفہ نے ایک متشد د قسم کے نظام حیات کی شکل اختیار کر لی اور مارکس کو اس خدا کے تصور سے عاری مذہب کا امام تصور کیا جانے لگا۔آیئے اب ہم کارل مارکس کے نظریہ کا بغور مطالعہ کریں کیونکہ جدلیاتی مادیت کی میکانیت نہیں بلکہ یہ اس کے نظریہ کی زبر دست قوت ہی تھی جس نے بالآخر کرہ ارض کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔انسانی نظریات اور عقائد کی باہمی کش مکش کی اس قوس قزح کی ایک انتہا پر تو مذہب ہے جو وحی الہی ہی کو ہدایت کا اصل سرچشمہ قرار دیتا ہے اور دوسری انتہا پر مارکسزم ہے جو الہامی صداقت کا سرے سے ہی انکار کرتا ہے۔ان ہر دو انتہاؤں کے مابین متعدد فلسفے موجود ہیں جن میں سے بعض مذہب اور بعض مارکسزم کے قریب تر ہیں۔لیکن جہاں تک مذہب اور اس کی تعلیم سے کلی انکار اور روگردانی کا تعلق ہے تو یہ مارکس کی جدلیاتی مادیت اور سائنٹفک سوشلزم کا فلسفہ ہی ہے جو الہامی مذہب اور اس کی تعلیمات کا یکسر منکر ہے۔تمام یورپی فلسفیوں میں مارکس سب سے زیادہ صاف گو اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے والا ، ٹھیٹھ اور سیدھا سادا لیکن بایں ہمہ مانیں یا نہ مانیں، وہ ایک اچھا بھلا مثالیت پسند (Idealistic) فلسفی ہے۔اپنے فلسفہ میں اس نے خدا اور مذہب کے خلاف مکارانہ موقف اختیار کیا ہے۔اس کے نزدیک نہ خدا کی کوئی حقیقت ہے اور نہ وحی کی۔اسی طرح وجدان کیلئے بھی اس