الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 625
594 کیا غیر تشریعی نبی آ سکتا هے ؟ زمانہ کے نبی کو جھٹلانے کے جرم سے بال بال بچ گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایسے نظریہ کو ایک مذاق تو کہہ سکتے ہیں، اسے ایک سنجیدہ دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر مودودی صاحب کا فلسفہ درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نعمت کی بجائے نبوت معاذ اللہ ایک لعنت ہے ورنہ اس کے بند ہو جانے کو نعمت اور انقطاع کو رحمت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوچ تو پولوس کی سوچ کے قریب تر معلوم ہوتی ہے جس نے تورات کی شریعت کو لعنت قرار دیا تھا اور وہ حضرت مسیح کو اس لئے نجات دہندہ مانتا تھا کیوں کہ بقول اس کے مسیح نے تورات کی شریعت کو منسوخ کر دیا تھا۔اس کی دلیل یہ تھی کہ جب کوئی قانون موجود ہی نہیں ہوگا جسے توڑا جائے تو گناہ بھی سرزد نہ ہو گا۔تا ہم مودودی صاحب کے اس پورے فلسفہ کا ماخذ صرف پولوس ہی معلوم نہیں ہوتا بلکہ یوں لگتا ہے جیسے بہاء اللہ کے تصور کے گڑے مردے اکھاڑنے کی کوشش کی گئی ہو۔پولوس کے نزدیک جس طرح حضرت مسیح نے تو رات کی شریعت کو منسوخ کر دیا تھا اسی طرح بہاء اللہ کا بھی قرآنی شریعت کے بارہ میں یہی دعویٰ ہے۔اس نے بزعم خود بنی نوع انسان کو قرآن کریم کی غلامی سے آزاد کر دیا ہے البتہ اس نے کلی پولوس کی پیروی نہیں کی۔کیونکہ پولوس نے کبھی مجسم خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ اس نے خدائی کو کلمبیا حضرت مسیح کی طرف منسوب کیا۔اس کے نزدیک مسیح ایک ایسا نجات دہندہ تھا جس نے خدا باپ کی طرف سے بنی نوع انسان کے خلاف کی جانے والی غلطی کا ازالہ کر دیا۔اس کے موروري نزدیک شریعت کا نفاذ بذات خود گناہ کو پیدا کرنے کے مترادف ہے۔لہذا شریعت کو منسوخ کر کے مسیح نے گناہ کے بیج کو ہی ختم کر دیا۔بنی نوع انسان کو نجات دلانے کے ساتھ ساتھ گویا اس نے خدا باپ کو بھی گناہ پیدا کرنے کی غلطی سے نجات دلا دی۔بہاء اللہ اس فلسفہ کا جزوی طور پر اطلاق کرتے ہوئے یہ دلیل دیتا ہے کہ قرآنی شریعت