الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 626
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 595 چونکہ بہت سخت اور مشقت میں ڈالنے والی ہے لہذا دور حاضر کے انسان کیلئے قابل عمل نہیں رہی۔یوں بزعم خود اس نے بنی نوع انسان کو اس تکلیف دہ بوجھ سے اگر چہ نجات تو دلا دی مگر مکمل نجات نہیں۔اس نے پہلی شریعت منسوخ کر کے ایک نئی شریعت گھڑ لی لیکن آخر کار وہ خدا تعالیٰ کا اور خود اپنا تمسخر اڑانے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔اس نے قرآنی شریعت کو منسوخ کر کے جو شریعت پیش کی وہ عقل سلیم، تفکر اور معقولیت کی کھلی تو ہین کے سوا کچھ نہیں۔یوں لگتا ہے کہ پولوس کے ان دونوں جدید شاگردوں یعنی بہاء اللہ اور موددی صاحب نے مل کر اسلام کے خاتمہ کی پوری کوشش کی ہے۔جہاں تک قرآنی شریعت کا تعلق ہے تو جس طرح بہاء اللہ نے اسے آزادی کے نام پر قربان کر دیا اسی طرح نبوت کو مودودی صاحب نے پولوسی فلسفہ کی بھینٹ چڑھانے کی جسارت کی۔دونوں ہی خدا کی نظر میں اپنے اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے۔دونوں ہی ان لوگوں کی نظر میں ہیرو قرار پائے جو خو د روحانی امراض کا شکار تھے۔لیکن مودودی صاحب نے پورے طور پر پولوس کی پیروی نہیں کی۔انہوں نے یہ تجویز کرنے کی جرات تو نہیں کی کہ خدا تعالیٰ کو چاہئے کہ قرآنی شریعت ہی کو منسوخ کر دے تا کہ لوگ اس کی نافرمانی کر کے مغضوب نہ بنیں۔مودودی صاحب نے پولوس کے اصول کے اطلاق کو صرف نبوت کے منصب تک محدود رکھا۔چنانچہ ان کے نزدیک اگر اسلام کے مقدس بانی عے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے امتی نبی بھی بھیجے گئے تو غالب امکان ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ان کا انکار کر دے جیسے ان سے پہلے نبیوں کا انکار ہوتا چلا آیا ہے۔اس طرح مودودی صاحب کی منطق کے مطابق خدا تعالیٰ کی لعنت کا خطرہ دو دھاری تلوار کی طرح ان کے سروں پر لٹکتا رہے گا۔مودودی صاحب کی نظر میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ کلیہ بند کر کے بنی نوع انسان پر بے انتہا رحمتیں نازل کی ہیں خصوصاً مسلمانوں پر۔لوگوں کو لعنت سے بچانے کیلئے نبوت کے سلسلہ کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ تو خود نبوت کو لعنت قرار دینے کے مترادف ہے۔اس طرح مودودی صاحب کا یہ جدید پولوی فلسفہ خدا تعالیٰ سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ نبوت کی لعنت کو سرے سے ہی ختم کر دے۔کیسی نجات اور گناہوں سے کیسی آزادی۔خس کم جہاں پاک!