الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 624

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 593 صورت میں استعمال کرنے کی بجائے اقبال نے پہنی پختگی کے تصور کو اسلام کے تناظر میں ڈھال کر اور اس کی نوک پلک درست کر کے اسے اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے استعمال کیا۔انہیں یہ تو مسلّم تھا کہ انسان کو ایک کامل مصلح اور کامل کتاب کی ضرورت ہے لیکن ایک دفعہ اس مقصد کے حاصل ہو جانے کے بعد ان کے خیال میں اسے آسمان سے مزید کسی دخل اندازی کی حاجت نہیں رہتی۔لیکن صرف اسی پر بس نہیں۔چینی پختگی کا یہ نظریہ جس میں اقبال نے کسی قدر ترمیم کی ہے نہ صرف ضرورت نبوت کی نفی کرتا ہے بلکہ غیر انبیاء کے ساتھ بھی خدا کے مکالمہ مخاطبہ کا سرے سے انکار کر دیتا ہے۔ان کے اس نظریہ سے صرف یہی ایک منطقی نتیجہ نکالا NIETZSCHE 40 اقبال جاسکتا ہے۔یہ نظریہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بھی قسم کی مزید رہنمائی سے کلیڈ آزاد کر دیتا ہے کیونکہ پہلے سے موجود رہنمائی کی روشنی میں اب وہ اپنے ہر قسم کے اہم فیصلے خود کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اقبال کی دلیل یہ ہے کہ انسان کوئی چھوٹا سا بچہ نہیں جس کی انگلی کسی نبی کے ہاتھ میں دے کر اسے چلنا سکھایا جائے۔کیا وہ اتنی بلوغت حاصل نہیں کر چکا کہ از خود چل سکے؟ بظاہر یہ منطق بڑی ٹھوس ہے مگر آج کے انسان کی روحانی زبوں حالی اور اخلاقی اقدار کی مکمل تباہی پر ایک نظر ہی اس دلیل کو کلی بودا اور خیالی ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔اقبال اور اس کے مفروضوں کے بارہ میں اتنا ہی کافی ہے۔اب ذرا مودودی صاحب کے نظریہ کا جائزہ لیں جو سنی مسلمانوں کے ایک مشہور عالم ہیں۔ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ا لا لا لالی کے بعد نبوت کا کلیہ بند ہو جانا بنی نوع انسان کیلئے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔خاص طور پر مسلمانوں کیلئے تو یہ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے کیونکہ اس طرح انہیں اب ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے کسی بچے پیغمبر کو جھٹلانے کا خطرہ مول لینے کی حاجت نہیں رہی۔یوں وہ پہلی امتوں کے برعکس اپنے