الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 538
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 511 اس غزوہ کو غزوہ خندق اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا کہ تمام قبائل عرب اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ مدینہ پر حملہ کر کے اسلام کو ہمیشہ ہمیش کے لئے نابود کر دیا جائے تو مدینہ کی کھلی جانب ایک روک کی تعمیر ناگزیز ہوگئی۔اس وقت مدینہ کے مسلمانوں کی تعداد حملہ آور افواج کے مقابلہ میں اتنی کم تھی کہ ان کیلئے کھلے میدان میں نکل کر دشمنوں کو مدینہ میں داخل ہونے سے روکنا قطعا ناممکن تھا۔لہذا مشورہ کے بعد طے پایا کہ خندق ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔چنانچہ سنگلاخ زمین میں ایک میل لمبی خندق کھودی گئی۔خندق کی کھدائی میں حصہ لینے والے مسلمانوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔کم سے کم سات سو اور زیادہ سے زیادہ تین ہزار کا ذکر ملتا ہے۔ہمارے اندازہ کے مطابق یہ تعداد اٹھارہ سو سے زیادہ نہیں بنتی۔مؤرخین اس پر متفق ہیں کہ دس کس کے ہر گروپ کو دس گز لمبی خندق کھودنے پر متعین کیا گیا تھا۔چونکہ خندق کی لمبائی ایک میل سے زیادہ نہ تھی۔اس لئے مسلمانوں کی تعداد 1760 سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔یہ کام بے حد مشکل لیکن مشقت طلب تھا۔غربت اور بے سرو سامانی نے مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا تھا جنہیں بعض اوقات کئی کئی دن بھوکا رہ کر کام کرنا پڑتا تھا۔الله ان انتہائی مشکل اور نا مساعد حالات میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کو بتایا گیا کہ پوری کوشش کے باوجود ایک سخت چٹان کسی طرح بھی ٹوٹ نہیں رہی۔چنانچہ آپ کے خود وہاں الله تشریف لے گئے اور اپنے دست مبارک میں کدال لے کر چٹان پر تین کاری ضربیں لگائیں جن سے چٹان ٹوٹ گئی۔ہر ضرب پر چٹان سے شعلے نکلتے اور آپ ﷺ بآواز بلند اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے۔بعد میں صحابہ نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ نے اللہ اکبر کا نعرہ اتنے فاتحانہ انداز میں کیوں بلند فرمایا۔آپ ﷺ نے فرمایا: پہلی ضرب سے اٹھنے والے شعلوں میں میں نے بازنطینی سلطنت کے شام کے محلات دیکھے اور ان کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔دوسری دفعہ مجھے مدائن میں ایران کے روشن اور جگمگاتے ہوئے محلات دکھائے گئے اور مجھے ان کی چابیاں دی گئیں اور جب میں نے چٹان پر تیسری ضرب لگائی۔تو اس سے نکلنے والے شعلوں میں مجھے صنعا کے محلات دکھائے گئے اور ان کی چابیاں عطا کی گئیں۔تاریخ گواہ ہے کہ یہ واقعات بعینہ اسی طرح رونما ہوئے۔لیکن معجزہ صرف یہی نہیں کہ یہ