الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 537

510 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم ترجمہ: اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انہوں نے کہا یہی تو ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس نے ان کو نہیں بڑھایا مگر ایمان اور فرمانبرداری میں۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں جو غزوات ہوئے ، ان میں سے غزوہ خندق اس اعتبار سے نمایاں ہے کہ اس دوران مسلمانان مدینہ کو انتہائی خطرناک حالات اور ابتلاؤں سے گزرنا پڑا۔بہت سی ایسی مشکلات بھی پیش آئیں جن سے بچ نکلنا محال نظر آتا تھا۔قرآن کریم میں اس حالت کو یوں بیان کیا گیا ہے۔اذْ جَاءُ وَكُمُ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّلَمُوْنَاتِ هَنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَا لَّا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا وَإِذْ قَالَتْ ظَابِفَةٌ مِّنْهُمْ يَأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًان (الاحزاب 11:33-14 ترجمہ : جب وہ تمہارے پاس تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نشیب کی طرف سے بھی آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (اچھلتے ہوئے ) ہنسلیوں تک جا پہنچے اور تم لوگ اللہ پر طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔وہاں مومن ابتلاء میں ڈالے گئے اور سخت (آزمائش کے) جھٹکے دیئے گئے۔اور جب منافقوں نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں مرض تھا ، کہا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے دھوکے کے سوا کوئی وعدہ نہیں کیا۔اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا۔اے اہل مشرب ! تمہارے ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں رہا پس واپس چلے جاؤ۔اور ان میں سے ایک فریق نے نبی سے یہ کہتے ہوئے اجازت مانگنی شروع کی کہ یقینا ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔وہ محض بھاگنے کا ارادہ کئے ہوئے تھے۔