الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 539 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 539

512 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم پیشگوئیاں اپنے وقت پر پوری ہوئیں بلکہ ان حالات میں محض ان پیشگوئیوں کا کیا جانا ہی 1 بجائے خود معجزہ کا حکم رکھتا ہے۔تاریخ میں ایسی مثالیں شاذ ہی ملتی ہیں کہ اپنے دفاع پر مجبور، بے سرو سامان، معدودے چند مسلمان بھوک اور تھکن سے نڈھال، شب و روز خندق کھودنے میں مصروف ہوں۔اور ایسے وقت میں جب مسلمانوں کی بے بسی اور کمزوری اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی آنحضرت ﷺ نے وہ تاریخی الفاظ استعمال فرمائے جن سے تاریخ عالم تہی دامن تھی اور جن کے طفیل نئے تاریخی کارنامے رقم ہوئے۔ایسے وقت میں فتوحات کی پیشگوئی کرنا یا تو ایک دیوانے کی بڑ ہو سکتی تھی یا پھر ایک عظیم الشان نبی ﷺ کے منہ سے نکلا ہوا ارشاد خداوندی۔آپ ﷺ سب داناؤں سے بڑھ کر دانا تھے اور دیوانہ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر کوئی نبی ہاتف غیبی کہلانے کا حقیقی حقدار ہے تو وہ صرف اور صرف آنحضرت ﷺ ہی ہیں جن کے مبارک ہونٹوں سے نکلے ہوئے الفاظ نے تقدیریں بدل ڈالیں اور جس طرح خدا آپ ﷺ سے ہمکلام ہوا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کلام کو آپ مہ نے بیان فرمایا۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے یہاں قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی تمام پیشگوئیوں کا تفصیلی جائزہ لینا مقصود نہیں بلکہ ہم چند مخصوص پیشگوئیوں کو ان کے وسیع تناظر میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔وہ پیشگوئیاں جن کا تعلق آنحضرت ﷺ کی زندگی اور معا بعد کے زمانہ سے ہے، ان کے بیان کے بعد اب ہم پیشگوئیوں کی ایک اور قسم کا ذکر کرتے ہیں جو مستقبل بعید سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ فیصلہ کرنا تو مشکل ہے کہ پہلے کسی پیشگوئی کا ذکر کیا جائے۔تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی دریافت اور معلوم دنیا کے پھیلاؤ کے بارہ میں پیشگوئی سے آغاز کیا جائے۔متعلقہ آیات درج ذیل ہیں۔وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ﴿ وَالْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ وَأَذِنَتْ لِرَيْهَا وَحُقَّتْ (الانشقاق 64:84