الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 515

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 489 بظاہر وقت کا سوال نہیں اٹھایا جانا چاہئے تھا جیسا کہ یہاں کیا گیا ہے۔لیکن اس آیت کے آخر میں واضح طور پر یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ تصورات از خود کچھ بھی تخلیق نہیں کر سکتے خواہ ان کے پاس کتنا ہی وقت کیوں نہ ہو۔اس کے برعکس اللہ تعالی اپنی حقیقی صفات کے اظہار کیلئے وقت کا محتاج نہیں ہے۔مجموعی طور پر یہ آیت انتخاب طبیعی کے جدید تصور پر اطلاق پاتی ہے جسے عام طور پر ارتقائے حیات کا ذمہ دار خیال کیا جاتا ہے بشرطیکہ اس کیلئے اسے کافی وقت دیا جائے۔انتخاب طبعی کے سیاق و سباق میں وقت کا عنصر بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔تدریجی ارتقا کے نظریہ کے مطابق ایک بے سروپا، اندھے، بے شعور اور طویل وقت پر محیط تصور کو عمل تخلیق کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔اس وقت کو سکیٹر کر اگر ایک ارب سال کے عرصہ تک لے آئیں تو اس نظریہ کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں۔لہذا اس امر میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ ان کے نزدیک زندگی کے تخلیقی عمل میں سب سے زیادہ اہمیت وقت ہی کو حاصل ہے۔قرآن کریم در اصل اس نظریہ کی عملاً تردید کرتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ فرضی تصورات جتنا بھی چاہیں وقت کیوں نہ لے لیں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنی تخلیقی صفات کا اظہار آنِ واحد میں کر سکتا ہے۔وقت کے عمل کے اس تصور نے ڈارون کے قوانین کے حوالہ سے حال ہی میں کچھ مزید اہمیت اختیار کر لی ہے۔شاید کسی کے ذہن میں یہ شبہ ہو کہ یہ آیت موجودہ زمانہ میں پیش کئے گئے نظریات کے متعلق نہیں ہے۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس آیت کا متن مکمل طور پر موجودہ نظریہ پر صادق آتا ہے۔اس کے نزول کا تعلق اس حوالہ سے نہ بھی ہو تو بھی انتخاب طبیعی کے نظریہ پر ان سے بہتر الفاظ میں تنقید نہیں کی جاسکتی۔ماہرین حیاتیات کا دعوی ہے کہ تخلیق اور انتخاب کی قوتیں اگر چہ علیحدہ علیحدہ ہیں لیکن مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔وہ ہمیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ دماغ سے بے بہرہ جینز (genes) تخلیق کرتے ہیں اور ہیئت سے عاری انتخاب طبعی کا قانون انتخاب کرتا ہے۔تاہم ساتھ ہی ساتھ وہ جیز کے مسئلہ کو ایک مسلمہ امر قرار دے کر پس پشت ڈال دیتے ہیں اور انہیں بھی انتخاب طبعی کے اقتدار کے تحت لے آتے ہیں۔اس طرح وہ ان دونوں عوامل کو جنہیں الگ الگ سمجھا جانا چاہئے تھا عجیب بے معنی طریقہ سے خلط ملط کر دیتے ہیں۔اگر جینز کو بطور خالق