الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 514

488 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق سے بھی ہونی چاہئے جو زندگی کے ارتقا میں مقصد اور ڈیزائن کی موجودگی کا انکار کرتے ہیں۔یہ لوگ اس وقت عمل ارتقا کی ان بلندیوں پر موجود ہیں جہاں اس عمل نے انسان کا آخری روپ اختیار کیا ہے۔ارتقا کی اس بلند چوٹی سے نیچے دیکھنے والے کو تو ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ زمین پر موجود ایک چھوٹے سے نقطہ کی شکل میں دکھائی دینی چاہئے تھی۔لیکن اس کے باوجود یہ لوگ بآواز بلند اعلان کر رہے ہیں کہ: "ہماری تخلیق کے پس پردہ کوئی ڈیزائن، کوئی مقصد کارفرما نہیں ہے۔ہمارا وجود ہی ناممکنات میں سے ہے لیکن اس کے باوجود یوں لگتا ہے جیسے ہم موجود ہوں۔یہ تمام دنیا محض ایک واہمہ ہے۔تم خیال کرتے ہو کہ ہم موجود ہیں اور ہمارا وہم ہے کہ تم بھی موجود ہو۔یوں یہ کائنات واہموں کا ایک سلسلہ ہے جیسا کہ اپنی ہی ذات میں گم فلسفی سمجھا کرتے ہیں۔ہستی کے واہمہ سے نجات پانے کیلئے دوبارہ ہیموگلوبن کے اعداد و شمار پر غور کرو اور نیستی میں گم ہو جاؤ" ایک ایسے خالق کی ہستی کے انکار سے جو شعوری طور پر اپنے فیصلوں کے نفاذ پر قادر مطلق کی حیثیت رکھتا ہو یہ لوگ ایک فرضی خیال کو اس کی جگہ دینے کی کوشش کرتے ہیں تخلیق یا انتخاب کے عمل کی بنیاد کسی ذہن سے عاری مفروضہ پر رکھنا ایک ایسی احمقانہ کوشش ہے جسے قرآن کریم کی درج ذیل آیت میں یکسر رد کیا گیا ہے۔أَلَهُمْ أَرْجُلُ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ تَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أعْيُنٌ تُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَذَانُ يَسْمَعُوْنَ بِهَا قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَ كُمْ ثُمَّ كِيْدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ (الاعراف 7 : 196 ) ترجمہ: کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں۔تو کہہ دے کہ تم اپنے شرکاء کو بلا ؤ اور پھر میرے خلاف ہر چال چل دیکھو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔قرآن کریم کے اس بیان میں واضح طور پر اس زمانہ کے بت پرست مخاطب کئے گئے ہیں اور انہیں یاد دلایا گیا ہے کہ اگر چہ ان کے اعتقاد کے مطابق ان کے دیوتا انسانی شکل وصورت رکھتے ہیں لیکن در حقیقت وہ محض فرضی تصورات ہیں۔اس بیان کو یہیں پر ختم ہو جانا چاہئے تھا اور