الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 510

484 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق ایسا مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہیں۔اور اس میں انسانوں کیلئے ایک بڑی شفا ہے۔یقیناً اس میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے بہت بڑا نشان ہے۔دنیا میں پائے جانے والے تمام حشرات میں سے اللہ تعالیٰ نے صرف شہد کی مکھی کو چنا تا کہ وہ ثابت کر دے کہ جب وہ کسی عام سے جانور کو اپنی وحی سے مشرف کرتا ہے تو اس کا مرتبہ تمام جانوروں سے بہت بلند ہو جاتا ہے۔آخر شہد کی مکھی ایک مکھی ہی تو ہے۔لیکن واہ! اس مکھی کے کیا کہنے کہ جب اس کی تخلیق کے اولین مرحلہ ہی میں اس کے جینز میں وہی طور پر پیغامِ ربی مرتسم ہو جاتا ہے تو اس کے بعد وہ خود بخود سب کچھ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے جو اس کے سپرد کیا گیا ہے۔اس کا یہ کام کسی سوچ بچار کا نتیجہ نہیں جس کے لئے کسی باشعور ذہن کی ضرورت ہو بلکہ جو جینز اس مقررہ فرض کو نبھا رہے ہیں وہ خود تو کوئی دماغ نہیں رکھتے۔البتہ ان کا خالق علیم بھی ہے اور خبیر بھی۔جینز تو محض غلام ہیں اور غلاموں کی طرح اس کے علم کی تعمیل کرتے ہیں۔چنانچہ اس نے دنیا پر بخوبی واضح کرنے کیلئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ کسی بے حیثیت کیڑے کو چن لیتا ہے تو وہ حشرات کی دنیا میں اعلیٰ ترین حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور باقی کیڑوں کے برعکس جو بیماری پھیلانے کا موجب ہیں شفا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔بلا شبہ ان دونوں قسم کے کیڑوں کی زندگی میں بعد المشرقین ہے۔جہاں تک شہد کی صحت بخش صفات کا تعلق ہے تو یہ ایک جاری وساری تحقیق ہے اور وہ محققین جو پہلے ہی اس کی حیرت انگیز خوبیاں دریافت کر چکے ہیں ابھی مزید بہت سی خوبیوں کی دریافت کی توقع رکھتے ہیں۔میڈیکل سائنس کی اب تک کی دریافت کا خلاصہ کچھ یوں ہے: فی الحال شہد جن بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہو رہا ہے ان میں آنتوں کی تکالیف اور دل کی بعض بیماریاں اور پھیپھڑوں۔گردوں۔جلد۔اعصاب۔ناک۔کان اور گلے کی انفیکشن۔عورتوں کے اعضائے تولید اور رحم کی بیماریاں شامل ہیں۔270 شہد میں شفا کی ایک تاثیر جس کی دریافت سے برطانوی سائنسدان حیران رہ گئے وہ اس کی آنکھوں کے ایسے زخموں کو ٹھیک کر دینے کی صلاحیت ہے جو اس سے قبل لا علاج سمجھے جاتے تھے۔اس کے استعمال سے بہت سے مریض مکمل نابینا پن سے بچائے جاچکے ہیں۔