الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 511

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 27° 485 جن مریضوں کی آنکھوں میں زخم یا لکرے تھے انہوں نے شہد کے استعمال کے بعد محسوس کیا کہ ان کی آنکھوں میں چھن اور ریت کی رڑک کا احساس جاتا رہا۔اندرونی جھلی کی سرخی کم ہوگئی یا بالکل ختم ہوگئی پوٹوں کے کناروں کے زخم علاج کے دوران مندمل ہونا شروع ہو گئے اور ایسے مریض جن کی آنکھوں میں روشنی کی تاب نہ رہی تھی شہد کے مسلسل استعمال سے ان کی آنکھ کی بیرونی جھلی بہتر ہونا شروع ہوگئی اور ان کی بصارت بھی بہتر ہوگئی۔کیا اس میں ماہرین حیاتیات کے لئے غور و فکر کرنے کا کوئی پیغام نہیں ہے؟ کاش کہ وہ سمجھیں! اپنی بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماہرین حیاتیات، حیات کی تشکیل کے بامقصد ہونے کے محض اس وجہ سے انکاری ہیں کہ اس سے لازماً خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ملتا ہے۔اس کے برعکس وہ اس خیال کو ترجیح دیتے ہیں جس کے مطابق کسی بہری، گونگی اور اندھی طاقت نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔یوں وہ دانستہ دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں کیونکہ ڈارون کے اندھے قوانین ہرگز ہرگز خالق نہیں ہیں، نہ ہو سکتے ہیں۔ان قوانین کا تو صرف اور صرف اس وقت اطلاق شروع ہوتا ہے جب تخلیق خالق کے ہاتھوں معرض وجود میں آجاتی ہے۔یہ قوانین بھی فزکس کے قوانین کی طرح طاقتور ہیں۔لیکن فزکس اور کیمسٹری کے قوانین اور قوانین حرکت سب مل کر بھی کسی غریب آدمی کی جھونپڑی میں آب رسانی کا مکمل انتظام، اور ایک چھوٹا سا باورچی خانہ اور بیت الخلا تک مہیا نہیں کر سکتے۔اس میں شک نہیں کہ یہ قوانین تعمیر کے دوران کام تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے استعمال کیلئے کسی ذی شعور وجود کا ہونا ضروری ہے جو ذہن رکھتا ہو۔کیونکہ ذہن ہی بنیادی اہمیت کا حامل ہے جو قوانین قدرت کو کام میں لاتا ہے۔اندھے ارتقا کا نظریہ محض چند ایک محدود واقعات تک تو کارآمد ہو سکتا ہے لیکن ان واقعات کا بھی تنقیدی جائزہ لینا ہوگا تا کہ غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔مونگے کے جزائر اس کی ایک زندہ مثال ہیں۔کھربوں کی تعداد میں مرنے والے مونگوں میں سے کسی ایک مونگے کی موت بھی بظاہر با مقصد نظر نہیں آتی۔لیکن لاکھوں سال تک ان کے ایک ایک کر کے مرنے کے بعد ایک دوسرے کے اوپر جمع ہونے کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ بنے والا ایک بڑا ڈھیر بالآخران جزائر کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔اگر ہم ماضی میں جھانک کر دیکھیں کہ یہ عمل کس طرح شروع ہو کر تکمیل کو پہنچا تو ہم اس میں وہ