الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 509
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 483 چاروں طرف بیرونی کناروں پر یہ مادہ چپکا دیتی ہیں۔ہر کبھی چھتے میں داخل ہونے سے پہلے لازماً اس مادہ پر رکتی ہے تا کہ اگر اس کے جسم پر کوئی وائرس یا بیکٹیریا موجود ہوں تو وہ ہلاک ہو جائیں۔ہم نے اس جگہ شہد کی مکھی کا ذکر کسی قدر تفصیل سے کیا ہے جبکہ اس سے قبل اسی قسم کے آٹھ دیگر جانوروں کا ذکر کیا گیا تھا لیکن ان کے بارہ میں زیادہ تفصیل بیان نہیں کی تھی۔اس کی وجہ یہ کہ چونکہ قرآن کریم شہد کی مکھی کا ذکر خاص طور پر اس انداز سے فرماتا ہے جس سے ماہرین حیاتیات کیلئے حیات کے معمہ کو سمجھنے میں آسانی ہو، اس لئے ہم نے بھی شہد کی مکھی کو منتخب کیا ہے تا کہ یہ لوگ پورے غور و خوض کے بعد ان تخلیقی قوتوں کا سراغ لگانے کی کوشش کریں جن کی وجہ سے یہ معجزانہ صورت حال معرض وجود میں آئی۔چونکہ ماہرین حیاتیات نے اس موضوع پر ماہرانہ تحقیق کی ہے اس لئے شہد کی مکھی اور اس کی پیچیدہ زندگی کے بارہ میں ان کا علم ہم سے کہیں زیادہ ہے۔اس وجہ سے ہم یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ یہ لوگ شہد کی مکھی اور اس کی زندگی سے متعلق حیرت انگیز امور کو محض اتفاق قرار دے کر یوں آسانی سے نظر انداز کر دیں۔انہیں چاہئے کہ قرآنی حقائق کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ کسی خالق کا وجود ایک یقینی امر ہے۔قرآن کریم اسی خالق کا ذکر فرماتا ہے جو کلام کرتا ہے اور زندگی کے اسرار کھولتا ہے۔چنانچہ شہد کی مکھی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِى مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِن الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبَّكِ ذُلُلاً يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخَتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (النحل 16 : 69-70 ) ترجمہ: اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں میں بھی اور درختوں میں بھی اور ان ( بیلوں ) میں جو وہ اونچے سہاروں پر چڑھاتے ہیں گھر بنا۔پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے کھا اور اپنے رب کے رستوں پر عاجزی کرتے ہوئے چل۔ان کے پیٹوں میں سے