الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 394

384 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح ٹکرا جائے تو مکڑی کے ڈنک مچھلیاں پکڑنے والے کانٹوں کی طرح اس کے جسم میں پیوست ہو جاتے ہیں اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔اس کو تھوڑا سا گھسیٹنے اور چیخنے کے بعد ٹیوب کی دیوار میں ایک شگاف نمودار ہوتا ہے جہاں سے مکڑی کیڑے کو اندر کھینچ لیتی ہے۔لیکن قبل اس کے کہ مکڑی اپنا شکار اندرونی حصہ میں واپس لے جا کر اپنی محنت کا مزہ اٹھائے پہلے ٹیوب میں اوپر کے حصہ کا رخ کرتی ہے تا کہ اس کی مرمت کر کے اسے پھر سے سر بمہر کر دے۔4 ڈارون کے بقائے اصلح کے اصول نے جینیاتی تغیرات جیسے اکلوتے سہارے کے بل بوتے پر trapdoor مکڑی کے تخلیقی عوامل کو کس طرح تشکیل دیا اور ان کو کیسے پایہ تکمیل تک پہنچایا ؟ یہ ایک ایسا راز ہے جس تک شاید ماہرین حیاتیات میں سے بھی صرف غیر معمولی قابلیت کے حامل افراد ہی کی اطمینان کی حد تک رسائی ممکن ہو۔آخر میں ہم جالا بننے والی مکڑیوں کے ذکر کے ساتھ جو مکڑیوں کی تمام انواع کا تقریباً نصف ہیں اس بحث کو سمیٹتے ہیں۔نہایت چھوٹی، نازک اور کمزور مخلوق ہونے کے باوجود انہیں یہ حیرت انگیز صلاحیت اور مہارت بھی حاصل ہے کہ اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنے کیلئے پیچیدہ جال کس طرح بنے جاتے ہیں۔یہ ایک نہایت دلچسپ مطالعہ ہے کیونکہ جونہی ہم جالا بننے والی مکڑیوں کی قسم سے دوسری قسم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا طرز حیات ، حکمت عملی اور تعمیر کی مہارت سب کے سب ڈرامائی انداز میں بدل جاتے ہیں۔آیئے اس بات کو تصور میں لائیں کہ اندھے اتفاقات نے کس طرح مکڑی کو اس انعام سے نوازا کہ اس کے لعاب پیدا کرنے والے غدود انتہائی مؤثر سوت کاتنے والے چرخہ میں تبدیل ہو گئے۔ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی راتوں رات جینیاتی تغیرات کے نتیجہ میں تو واقع نہیں ہوئی۔اگر ہم اس تمام عمل کا آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ خاکہ تیار کریں تو شاید کسی حد تک اس بات کو تصور میں لا سکیں کہ ارتقا کے بے مقصد عمل نے مکڑی کیلئے کیا کیا گل کھلائے ہوں گے۔شاید اس روداد کا آغاز اس وقت ہوا ہو جب مکڑی کے لعاب پیدا کرنے والے غدودوں کی حس اچانک حادثاتی عوامل کے باعث بہت تیز ہوگئی۔پھر ممکن ہے کہ اگلے دس یا ہمیں لاکھ سالوں میں بہت سارے اتفاقات نے مل کر اس لعاب دہن کو خشک بھی کر دیا ہو کہ وہ ہوا میں پہنچتے ہی