الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 393
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 383 تھا۔ماہرین حیاتیات بہت عرصہ سے اس ذہنی کشمکش میں مبتلا رہے کہ یہ مکڑی ایک لمبی ریشمی ٹیوب میں جس کا منہ دونوں طرف سے بند ہو، آخر کیسے زندہ زندہ رہ سکتی ہے۔بالآخر ایف۔انوک (F۔Enoch) نے اس پریشان کن مسئلہ کا حل دریافت کر لیا۔اس نے 1885ء سے 1892ء تک اس سلسلہ میں کام کیا۔وہ ریشمی ٹیوب جس میں اینٹی پس اپنے آپ کو قید کر لیتی ہے عام طور پر 8 سے 9 انچ تک لمبی ہوتی ہے۔اس میں سے اس کا صرف 2 سے 3 اینچ کا حصہ زمین کے اندر چلا جاتا ہے اور باقی تمام زمین کے اوپر یوں ابھرا ہوا ہوتا ہے جیسے دستانہ کی کوئی پھولی ہوئی انگلی ہو۔یہ ٹیوب درمیان میں زیادہ کھلی ہوتی ہے تا کہ مکڑی اس میں بآسانی حرکت کر سکے۔موسم سرما میں جب مکڑیاں زمین کے اندر جا کر سو جاتی ہیں تو اندھے ارتقا کا عظیم منصوبہ ساز ذہن اس بات کا بھی خیال رکھتا ہے کہ اس ٹیوب کا وہ حصہ جو ہوا میں ہے ٹوٹ جائے۔بعض اوقات انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ زمین سے باہر نکلی ہوئی جڑیں ہوں۔یہ کڑیاں ریشمی ٹیوب کو مٹی یا ریت کے ذرات میں اس طرح ملا دیتی ہیں کہ وہ نمایاں نظر نہیں آتیں۔اگر یہ مشاہدہ کرنا ہو کہ کیڑوں کو کیسے پکڑا جاتا ہے تو گھاس کے ایک تنکے سے ٹیوب کو چھیڑیں۔اچانک دو چمکدار اور نوکیلے دانت جالے میں سے تیزی سے باہر نکل آئیں گے اور ان کی پوزیشن سے بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مکڑی اپنے نچلے دھڑ کو اوپر لاکر بالکل شارک مچھلی کی طرح حملہ کرتی ہے۔اگر بھنبھناتی ہوئی کوئی مکھی ٹیوب سے Trapdoor مکڑی اپنی ٹیوب میں شکار پر جھپٹنے کے لئے تیار بیٹھی ہے Hadle