الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 14

14 فرد اور معاشرہ معاشرہ کے مابین طاقت کا توازن بھی بگڑنے لگتا ہے۔عوام اور ان پر حکومت کرنے والے چند افراد کا باہمی تناسب جوں جوں بڑھنے لگتا ہے معدودے چند ارباب اختیار کے ہاتھوں استحصال اور طاقت کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔اگر چہ اصولا یہ تو ممکن ہے کہ فرد اپنی آزادی کے عوض کچھ نہ کچھ فائدہ بھی حاصل کرے لیکن عملاً اس کی یہ توقع پوری نہیں ہوتی۔شخصی آزادی کا بنیادی اصول بتدریج معاشرہ کے مفاد پر قربان کر دیا جاتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاشرہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کا ماحول جہاں ایک طرف تحکمانہ ہوتا چلا جاتا ہے وہاں فرد کے حقوق بھی سلب ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس مضمون پر جامع بحث آگے آئے گی جب ہم مارکس کے نظریہ پر گفتگو کریں گے۔یہاں صرف اس انحطاط کی بنیادی وجہ تلاش کرنا مقصود ہے کہ ایک نسبتا ترقی یافتہ اور مسلم معاشرہ میں فرد اپنے آپ کو محفوظ و مامون کیوں نہیں سمجھتا؟ جانوروں کے معاشرتی رویہ میں تو ہمیں کہیں بھی ایسا منفی اور بیمار رحمان نظر نہیں آتا۔پھر کیا وجہ ہے کہ انسانی معاشرہ ہی فرد کے حقوق اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں قاصر رہتا ہے؟ بنی نوع انسان اور حیوانات میں ایک حد فاصل اور واضح ما بہ الامتیاز تو بہر حال موجود ہے یعنی یہ کہ حضرت انسان ہی ہے جس میں دھوکہ دہی اور قوانین قدرت کو تہ و بالا کرنے کا خوفناک رجمان پایا جاتا ہے۔اس معاملہ میں انسان باقی تمام جانوروں کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔بے شک بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے جانور بھی دھوکہ دہی کے مرتکب ہورہے ہوں لیکن دراصل یہ مجرمانہ دھوکہ دہی نہیں بلکہ ایک قسم کی حکمت عملی ہوا کرتی ہے۔جانوروں کے ہاں انسانوں کی مانند دوسروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا تصور نہیں ملتا۔وہ قوانین قدرت کے مطابق اور ان کی حدود میں رہتے ہوئے ایک منظم اور طبعی زندگی گزارتے ہیں۔اگر کبھی وہ دھوکہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں تو جینیاتی قوانین کے تحت ہی ایسا کرتے ہیں۔اور یہ چیز جرم کی تعریف میں نہیں آتی۔جرم کا شعور تو بالواسطہ نتیجہ ہے ارادہ کی آزادی اور خود مختاری کا۔جانور تو مکمل طور پر فطرت کے تابع ہوتے ہیں۔نہ تو وہ اچھے اور برے میں تمیز کر سکتے ہیں اور نہ ہی اچھائی اور برائی ان کیلئے کوئی معنی رکھتی ہے۔یہ انسان ہی ہے جو نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے دیدہ دانستہ پہلو تہی کا مرتکب ہوتا ہے