الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 15

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 15 بلکہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتا۔کسی نظام کے جزو کے طور پر انسان پر جو اجتماعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کے پس منظر میں انسان کی شخصی آزادی اس لئے بری طرح مجروح ہو کر رہ جاتی ہے کہ انسان کے اندر فطری طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ بسا اوقات دھوکہ دہی کا مرتکب ہو اور عمد أغلط رستہ اختیار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی رکھے کہ وہ اپنی غلط کاریوں کے باوجود بیچ کر نکل جائے گا۔کارل مارکس کا مقولہ ہے کہ انسان ایک بد دیانت مخلوق ہے۔بالکل بجا لیکن اس صورت میں کیا وہ خود بھی بد دیانت قرار نہیں پائے گا اور کیا وہ سوشلسٹ قیادت کو جس کی بنیاد میں ہی بددیانتی پر استوار ہیں اس تعریف سے مستثنیٰ قرار دے سکے گا؟ انسانی معاشرہ کا ہر دور میں یہی المیہ رہا ہے اور کوئی بھی نظام اس سے مستفی نہیں۔فرد اور معاشرہ 66 کے تعلق میں پائی جانے والی یہ خرابی ہی بڑھتی ہوئی قانون سازی کے رجحان کو جنم دیتی ہے۔بظاہر ہر نئے قانون کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف فرد کے حقوق کی حفاظت کی جائے تو دوسری طرف معاشرہ کے حقوق کو تحفظ دیا جائے تا کہ وہ ناجائز طور پر ایک دوسرے کے حقوق میں دخل اندازی نہ کر سکیں۔لیکن بدقسمتی سے قانون ساز ادارے کامل انصاف کی فراہمی میں اس وجہ سے ناکام رہتے ہیں کہ انسان کی اپنی بد عنوانی آڑے آ جاتی ہے۔اکثر ہوتا یہ ہے کہ قانون سازی کے اس اجتماعی عمل کے دوران فرد کے حقوق کی حفاظت کے لئے وضع کئے گئے قوانین کے ذریعہ ہی فرد کو اس کے حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ہے۔سردست ہم مذہبی معاشروں کے بارہ میں کسی لمبی چوڑی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے لیکن معاشرتی فلسفہ کے سیکولر نقطہ نگاہ سے کسی حد تک مذہب کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ماہرین عمرانیات من حيث الجماعت تسلیم نہیں کرتے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ایک حقیقت ہے۔ان کے نزدیک مذہب بھی دراصل انسان کے معاشرتی عمل کا ایک گونہ اظہار اگر بفرض محال مذہب کے ارتقا سے متعلق ان کا نظریہ درست تعلیم بھی کر لیا جائے تو اس صورت میں تمام مذہبی معاشروں کو انسان کے معاشرتی طبقات میں ایک انوکھی حیثیت حاصل ہو جانی چاہئے۔بالفاظ دیگر مذہب، معاشرہ اور فرد کے خلاف ایک مجسم فریب کی علامت بن کر رہ جاتا ہے۔بظاہر اس سے وہ ثابت یہ کرنا چاہیں گے کہ تمام بانیان مذاہب (نعوذ باللہ من ذلک)