الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 13

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 13 معاشرہ کی ہر سطح پر جرم و سزا کے قانون کا دھندلا سا خا کہ اُبھر نے لگتا ہے۔لہذا انسان کا معاشرتی حیوان کی حیثیت سے ارتقا کوئی منفرد اور اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ کم و بیش اکثر جانوروں کی طرح پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے عین مطابق معرض وجود میں آیا ہے۔یہ سوال کہ دنیا بھر میں معاشرتی زندگی کا ایک ہی وقت میں ارتقا کیسے ممکن ہوا، ایک لمبی بحث کا متقاضی ہے۔ہم یہاں انسانی معاشرہ کے ارتقا کے بعض ان پہلوؤں کا ذکر کریں گے جن کا ہمارے موضوع سے براہ راست تعلق ہے۔شخصی آزادی فی ذاتہ ہمیشہ سے معاشرتی پابندیوں سے برسر پیکار رہی ہے۔ان قوتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے اس کشمکش کا گہرا ادراک ضروری ہے جو بالآ خر شخصی آزادی اور معاشرہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مابین حدود کا تعین کرتی ہیں۔مثال کے طور پر فرد سے خاندان، فرد سے قبیلے اور فرد سے ریاست کے تعلقات اس بات پر گواہ ہیں کہ زندگی کو اس کی منظم معاشرتی شکل ہی میں زیر غور لایا جا سکتا ہے۔اگر انسان فطرتا آزاد اور آزادی پسند ہے تو پہلے اس بنیادی سوال کا جواب دینا ہو گا کہ آخر معاشرہ کی حاکمیت کے سامنے کیوں سرتسلیم خم کیا جائے؟ جب بھی کوئی سماجی ، نسلی، اقتصادی یا سیاسی نظام اپنی ارتقائی منازل طے کرتا ہے تو یہ عمل ہمیشہ سوسائٹی اور ان افراد کے مابین جن سے یہ سوسائٹی تشکیل پاتی ہے' کچھ لو کچھ دو کے ایک ایسے سمجھوتہ کا مرہون منت ہوا کرتا ہے جو تحریری شکل میں موجود نہیں ہوتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی فرد بھی اس وقت تک اپنی آزادی سے رضا کارانہ طور پر دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ اس سودے میں نقصان کی نسبت فائدہ زیادہ ہے۔بنیادی طور پر وہ اپنے تحفظ کی خاطر اپنی شخصی آزادی کا سودا کرتا ہے۔ایک طرف تو وہ اپنے کچھ حقوق سے اس نظام کی خاطر دستبردار ہو جاتا ہے جس کا وہ رکن بنتا ہے۔دوسری طرف اسے اپنے تحفظ اور آسان تر زندگی کی ضمانت مل جاتی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب معاشرہ کی تشکیل کا عمل شروع ہوتا ہے تو ہر سطح پر افراد ہی زیادہ تر فائدہ میں رہتے ہیں۔اسی طرح حیوانات میں بھی یہ اصول کارفرما نظر آتا ہے جس طرح انسانی معاشرہ کی ابتدائی سطح پر۔البتہ انسانی معاشرہ جوں جوں زیادہ منتظم ہونے لگتا ہے فرد اور