الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 284

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 277 ہو سکتا ہے کچھ لوگ اسے بے حد پیچیدہ اور حیران کن خیال کریں مگر دراصل یہ حساب کا ایک سیدھا سادہ سوال ہے۔ضائع ہو جانے والی چیز ازلی ابدی نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اگر وہ ہمیشہ سے موجود ہے تو وہ ضائع نہیں ہوسکتی۔اب ہمارے سامنے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے۔کہ ہم ایک ایسے ازلی ابدی خالق پر ایمان لائیں جو عطر اپی اور فنا کی دسترس سے بالا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ آج سے دو ہزار چار سو سال پہلے ارسطو بھی اس نتیجہ پر پہنچا تھا۔اور وہ نتیجہ آج بھی ویسا ہی درست ہے۔اس امر کی مزید وضاحت کیلئے ہم پھر بگ بینگ کا مطالعہ کرتے ہیں جو ایک کائنات کو نگلنے کے بعد دوسری کو جنم دیتا چلا جاتا ہے۔یہاں اس بات پر زور دینا مقصود ہے کہ ہر بار جب بلیک ہول کا ئنات کو اپنی اتھاہ گہرائیوں میں سمیٹ لیتا ہے تو عنطر اپی کے نتیجہ میں ضائع ہونے والی توانائی کو واپس نہیں کھینچ سکتا اور نہ ہی بگ بینگ کے وقت بلیک ہول مادہ کی اتنی مقدار واپس لوٹا سکتا ہے جتنی اس نے نگلی تھی۔بلیک ہول میں ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) یا واقعاتی افق سے پرے غیر معمولی اور بڑی بڑی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں جو اسی نسبت سے عطر اپی کے باعث ہونے والے ضیاع کی شرح کو بڑھا دیتی ہیں۔پس بلیک ہول سے جنم لینے والی نئی کائنات میں مادہ کی مقدار یقیناً اس مقدار سے کم ہوگی جو بلیک ہول کے اندر غائب ہو گیا تھا۔عنطر اپی کا شکار ہونے والا مادہ ہمیشہ کیلئے ضائع ہو جانا چاہئے پس بلیک ہول سے جنم لینے والی ہر نئی کائنات پہلی کی نسبت چھوٹی ہوگی۔ظاہر ہے کہ یہ عمل ابد الآباد تک بار بار نہیں دہرایا جا سکتا۔بالآخر ایک وقت ایسا آئے گا جب کائنات کا حجم اتنا چھوٹا ہو جائے گا کہ اس میں شاید اتنا مادہ بھی باقی نہ بچے جس سے ایک نیا بلیک ہول بن سکے۔کیا یہ بچا ہوا تھوڑ اسا مادہ ہمیشہ باقی رہے گا ؟ یقینا نہیں۔بچا کھچا مادہ بھی بالآخر عطر اپی کی نذر ہو جائے گا۔کیونکہ اگر اس کائنات کا کوئی خالق نہیں تو اس کا نقطہ آغاز بھی متصور نہیں ہو سکتا۔اور اگر کوئی آغاز نہیں تو لازماًیہ کا ئنات ازلی ابدی ہے۔اگر یہ درست ہے تو مذکورہ بالا محرکات کے نتیجہ میں یہ کا کات کب کی نیست و نابود ہو چکی ہوتی ہر چیز کو تا ہے اور لازما ختم ہونے والی ہے۔ایسی صورت میں آج کسی بھی چیز کی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا تو پھر ہم ہر ایک چیز کو فنا