الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 283

276 عنطراپی اور محدود کائنات لامتناہی راستہ پر ڈال دے گی۔بظاہر یہ بات سمجھنا بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن در حقیقت بہت آسان ہے۔ماضی کی طرف ایسے فرضی سفر کرنے والے انسان کو اگر کائنات کا کوئی نشان ملتا بھی ہے تو اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا چاہئے کہ یہ کائنات آخر اب تک معدوم کیوں نہیں ہوئی۔حالانکہ اس لمحہ جب اسے یہ کائنات ملی تھی عطر اپی کو اتنا لمبا وقت میسر آ چکا تھا جس میں ایسی بے شمار کا نکا نہیں معدوم ہوسکتی تھیں۔بڑے سے بڑے کسی ایسے عدد کا تصور کریں جس میں وقت کے تمام بے شمار اور عظیم ادوار سماسکیں۔اب اگر ہم اس عدد سے ازل کا خلا پر کرنے کی کوشش کریں تو بھی ہمارا فرض کیا ہوا عدد یقینی طور پر ازل تک پہنچنے سے قبل ہی ختم ہو جائے گا۔لیکن ازل کی کوئی حد دور دور تک نظر نہیں آئے گی۔عطر اپی کو کائنات کے خاتمہ کیلئے خواہ ٹریلین ضرب ٹریلین سال درکار ہوں تب بھی خاتمہ ناگزیر تھا۔ماضی کے اس فرضی سفر سے زمانہ حال میں پہنچ کر سوچیں کہ آج ہمارے ارد گرد یہ کائنات آخر کیوں موجود ہے؟ کیا عطر اپی کے نتیجہ میں اسے اب تک فنا نہیں ہو جانا چاہئے تھا یہاں تک کہ ماضی کے اس فرضی لامتناہی سفر میں اس کا کوئی سراغ نہ مل سکتا ؟ عطر اپنی ہو یا نہ ہو، لیکن ایک اور امکان کو ضرور مد نظر رکھا جانا چاہئے۔جدید تحقیقات کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پروٹان کی ایک محدود عمر ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔جبکہ قبل ازیں نظری طبیعیات کے ماہرین پروٹان کی عمر کو لامحدود خیال کرتے تھے۔یہ عمر خواہ 10 سال ہو یا 1034 سال اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔خواہ یہ عمر کھربوں سال ہی کیوں نہ ہو پھر بھی یہ ایک محدود عمر ہے۔اگر پروٹان کبھی تخلیق کئے گئے ہیں تو ایک دن ضرور ختم ہو جائیں گے۔لیکن اگر وہ ہمیشہ سے موجود ہیں اور کبھی تخلیق نہیں کئے گئے تو اصولاً آج سے بہت عرصہ پہلے انہیں عنطر اپی کے ہاتھوں معدوم ہو جانا چاہئے تھا۔ضیاع اور ازل اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ناممکن ہے کہ ایک چیز مسلسل ضائع ہونے کے باوجود بچی بھی رہے۔ہر ضائع ہونے والی چیز لاز ما ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن کیا وجہ ہے کہ میں اور آپ اور دیگر اشیاء اس کا ئنات میں اس لمحہ موجود ہیں جبکہ ہماری اس کا ئنات کے اس لمحہ موجود رہنے کا کوئی جواز نہیں اور اسے اپنی تمام جاندار اور بے جان اشیاء کے ساتھ کہیں بہت پہلے ختم ہو جانا چاہئے تھا۔