الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 191

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 187 اور عقائد کا تعلق ہے ان کے فیصلوں کے سامنے غیر مشروط طور پر سر تسلیم خم کیا جائے۔ان کے نزدیک اس امر کی کوئی اہمیت نہیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق بسر کی جائے۔لوگ ڈاکے ڈالیں، چوری کریں، کسی کو اپاہج بنا دیں، قتل کر دیں، دولت سمیٹیں، جھوٹ ، مکروفریب اور دھوکہ سے قلعے تعمیر کر لیں۔الغرض لوگ جو چاہیں کریں، شرط یہ ہے کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں کی وفاداریاں تبدیل نہ کریں اور ان کے مد مقابل کے سامنے سر نہ جھکا ئیں۔ان کے نزدیک اس کے علاوہ ہر دوسری بات جائز ہے۔ان کا قبلہ خدا کی بجائے انبیاء اور پھر انبیاء کی بجائے ان کی اپنی ذات اور انا بن جاتا ہے۔یوں اخلاق سے عاری اور فانی لوگ چھوٹے چھوٹے خداؤں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ان کی پیروی کرنے والے جاہل عوام کی حالت بھی قابل رحم ہے۔ان کے نزدیک خدا ہی مذہبی پیشوا ہے اور مذہبی پیشوا ہی خدا۔مذہبی معاملات میں وہ اس کو چیلنج کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔ان کی اطاعت کا مرکز گلی تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے یہاں تک کہ ان کے لئے خدا اور مذہبی پیشوا میں فرق کا شعور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ان کیلئے مذہبی پیشوا کی مرضی خدا کی مرضی بن جاتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ مذہبی پیشوا ان کے ذاتی مفادات کی راہ میں حائل نہ ہو جائے۔جب کبھی ایسا ہوتا ہے تو اس وقت اس کا سارا اختیار ختم ہو جاتا ہے اور وہ ان کیلئے قابل اطاعت نہیں رہتا۔اس جیسے اخلاقی گراوٹ کے شکار معاشرہ کا ہر فرد اپنے سواکسی اور خدا کو نہیں جانتا۔ان مذہبی پیشواؤں کے مصنوعی خداؤں کی تکریم اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک کہ ان کا اپنے پیروکاروں کی انا سے تصادم نہیں ہوتا۔اس طرح توحید سے شرک تک کا سفر مکمل ہو جاتا ہے۔انا کی پوجا ہی ایک انحطاط پذیر مذہبی معاشرہ کا منطقی انجام ہے اس قسم کے ملے جلے رجحانات کے حامل معاشروں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نذیر کی اچانک بعثت ہمیشہ ایک نا پسندیدہ مداخلت تصور کی جاتی ہے۔اس قسم کا سلوک حضرت عیسی کے ساتھ روا رکھا گیا جو اسرئیل کی بھیٹروں کی طرف مبعوث ہوئے لیکن ان کے رویہ کی بنا پر انہیں بھیڑوں کی بجائے بھیڑیے کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔تا ہم حضرت عیسی کا رویہ ایک مہربان گڈریے کا تھا جو اپنے ریوڑ کی ہر بھیڑ کا خیال رکھتا ہے۔