الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 190
186 سيكولر نقطه هائی نظر کا تجزیه کرنے لگتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار کئے بغیر خود خدا بن بیٹھتے ہیں۔ان کیلئے خدا کی ذات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بلکہ اصل اہمیت ان کی اپنی ذات کو حاصل ہو جاتی ہے۔ان کے نزدیک اب معاشرہ کو ان کے غضب سے بہر صورت ڈرتے رہنا چاہتے اور ہمیشہ کے لئے ان کی خوشنودی کا طلبگار رہنا چاہئے۔یہ سارا عمل جزا سزا کے ایک نئے معیار کو قائم کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔جو ان کے خود ساختہ خداؤں سے ٹکر لینے کی جرات کرتا ہے، اسے واصل جہنم کر دیا جاتا ہے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے کو ابدی جنت کا وعدہ دیا جاتا ہے۔خدا ہی ان کی ریشہ دوانیوں سے بچائے۔انہیں عوام الناس کے اخلاق کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔انہیں تو صرف اپنی اور اپنے اقتدار کی ہوس ہے۔اس کی بنا پر تو وہ عوام الناس پر حکومت کرتے ہیں۔اس طرح مروت، تہذیب اور عدل وانصاف کو ان کے انتہا پسند اور متشدد عقائد کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔جب بھی توحید الہی سے کسی نہ کسی رنگ میں انحراف کیا جائے تو معاشرہ کو ہمیشہ یہی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔جب خدا کی تقدیر جاری ہوتی ہے تو جوش انتقام میں وہ زخمی سانپ کی طرح پھنکارنے لگتے ہیں۔سابقہ انبیاء کی یہ نام نہاد پرستش محض ایک چال ہے ورنہ ان کا اصل رو یہ ہمیشہ ہی سے اپنی انا کی پرستش رہا ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ ملحد معاشرہ ان جیسے بہت سے جعلی خداؤں سے بھرا پڑا ہے۔در حقیقت توحید باری تعالیٰ کے بغیر اتحاد ممکن ہی نہیں۔ملاؤں کی باہمی رقابتیں بالآخر اپنا رنگ دکھاتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظریاتی اختلافات کے نام پر معاشرہ نئے فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔عوام الناس پر تسلط حاصل کرنے کیلئے ان کے مابین اقتدار کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ان کو صرف اپنے دھڑے کی کثرت تعداد مطلوب ہوتی ہے۔لیکن اپنے پیروکاروں کے اخلاق کی ان کو ذرہ بھر پرواہ نہیں ہوتی۔یہ رہنما ان کی روز مرہ کی زندگی اور معاشرہ سے متعلق ان کے اخلاقی فرائض کی بجا آوری پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈالتے۔وہ تو صرف عوام کے جذبات کو مشتعل کر کے دوسرے فرقوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔لیکن کبھی بھی ان کے دلوں کی زمین کو نرم اور ہموار کر کے اس میں محبت اور قربانی کے بیچ نہیں بویا کرتے۔ایسا معاشرہ بت پرستی کے پنپنے کیلئے بڑی موزوں زمین فراہم کرتا ہے۔ان کا تو فقط ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ جہاں تک مذہبی امور