الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 192
188 سيكولر نقطه هائے نظر کا تجزیه دیکھنے والی آنکھ بآسانی دیکھ سکتی ہے کہ کس طرح مکروفریب کے ذریعہ انبیاء کی راہیں مسدود کر دی جاتی ہیں۔انبیاء کو فرضی معبود بنا لینا بعد میں آنے والے نبیوں کے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے کیونکہ ان کا ظہور بہر حال انسانی شکل میں ہوتا ہے۔انہیں معبود نہ بھی سمجھا جائے تب بھی ان کی مبالغہ آمیز مدح سرائی اور ان کی طرف مافوق الفطرت طاقتوں کا منسوب کیا جانا ہی بچے نبیوں کی تکذیب کیلئے کافی وجہ بن جاتا ہے۔کیونکہ وہ کبھی اس شان وشوکت کے ساتھ نہیں آتے جس کی لوگ توقع کر رہے ہوتے ہیں۔لوگوں کا خیالی تصور ان کی شناخت کے راستے مسدودکر دیتا ہے۔انبیاء پر ایمان لائے بغیر خدا پر ایمان کا دعوئی دراصل الحاد ہی کا دوسرا نام ہے کیونکہ ایمان کا ایسا دعویٰ کرنے والوں کی زندگی میں خدا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔گویا خدا نے ان کو ایسے چھوڑ دیا ہے جیسے کوئی پرندہ کبھی واپس نہ آنے کیلئے اپنے آشیانہ کو چھوڑ دیتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اسی قسم کے چیلنجوں کا سامنا تھا۔آپ کے زمانہ میں یہودی معاشرہ بھی ایک ایسے ہی روحانی اور اخلاقی بحران سے گزر رہا تھا۔یہودی علماء کیا فریسی اور کیا صدوقی سب مصنوعی خدا بنے بیٹھے تھے اور حقیقی خدا کیلئے کوئی جگہ باقی نظر نہیں آرہی تھی۔پس حضرت عیسی کی خدا کے نام پر تنہا اور فقیرانہ آواز کا مخالفوں کے شور و شغب میں ڈوب جانا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔مذہب کے آغاز اور عروج وزوال کی یہی مختصری داستان ہے۔لیکن ہر زوال کے بعد توحید کے از سر نو قیام کیلئے ہمیشہ وحی الہی کے ذریعہ ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔یہ آغاز زمین سے نہیں ہوا کرتا۔انسانی خیالات تو زمین سے اٹھنے والے دھوئیں کی مانند ہیں جو کبھی بھی حقیقی توحید کے عقیدہ میں نہیں ڈھل سکتے۔توحید حقیقی ہمیشہ آسمان سے ہی آیا کرتی ہے اور گرے ہوئے انسان کو قرب الہی کی رفعتوں سے ہمکنار کر دیتی ہے۔