الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 155
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 153 عہد نامہ قدیم میں پیش کیا گیا ہے۔اگر وہ دو خداؤں کے قائل ہوتے تو اسرائیل کا خدا ایسے عظیم الشان الفاظ میں انہیں ہر گز نہ سراہتا۔چنانچہ یسعیاہ نبی نے فرمایا: خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس کا داہنا ہاتھ پکڑا کہ امتوں کو اس کے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اور دروازوں کو اس کیلئے کھول دوں اور پھاٹک بند نہ کئے جائیں گے۔میں تیرے آگے آگے چلوں گا اور نا ہموار جگہوں کو ہموار بنا دوں گا۔میں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروں گا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالوں گا اور ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دوں گا تا کہ تو جانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لے کر بلایا ہے۔میں نے اپنے خادم یعقوب اور اپنے برگزیدہ اسرائیل کی خاطر تجھے نام لے کر بلایا میں نے تجھے ایک لقب بخشا اگر چہ تو مجھ کو نہیں جانتا۔میں ہی خدا وند ہوں اور کوئی نہیں۔میرے سوا کوئی خدا نہیں۔۔۔(یسعیاہ 1:45-5) قدیم ایرانیوں سے بابائے قوم کا خطاب پانے والا عظیم خورس فارس کے روایتی ادب کی داستان میں ایک بردبار اور مثالی حکمران کی حیثیت سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔بائیبل نے اسے بابل میں اسیر یہودیوں کو رہائی دلانے والے رہنما کے طور پر زبر دست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔مختصر یہ کہ ساری تاریخ میں خورس کا تاثر ایک غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت کے طور پر ابھرتا ہے۔اس نے ایک ایسی وسیع و عریض سلطنت کی بنیاد رکھی جو شاید ہی کسی دوسرے عظیم فاتح نے قائم کی ہو۔شہنشاہوں میں وہ واحد شہنشاہ ہے جو تمام مورخین کی ملامت و تنقید سے بالا نظر آتا ہے۔بحیثیت انسان یا بطور حکمران دونوں صورتوں میں اس کے اخلاق اور کردار آلودہ نظر نہیں آتے۔وہ ایک حاکم میں پائی جانے والی تمام خوبیوں کا مرقع تھا۔جنگوں کے دوران وہ نڈر اور بے خوف اور فتح یابی کی صورت میں وسیع القلب نظر آتا ہے۔خدا کی وحدانیت پر اس کا غیر متزلزل ایمان یقیناً حضرت زرتشت علیہ السلام کو مانے ہی کا نتیجہ تھا۔زرشتی مذہب اپنے تمامتر خدو خال میں یہودیت اور اسلام سے قریب تر ہے۔چنانچہ خیر وشر یا نور اور ظلمت کے بارہ میں اس کا تصور