الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 156

154 زرتشت ازم یہودیت اور اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔لہذا امکان غالب ہے کہ اہرمن، محض شیطان ہی کا دوسرا نام ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر حضرت زرتشت کے ماننے والوں کو تصور ثنویت کیوں اس قدر پسند آیا کہ نہ صرف ان کے عقائد و تعلیمات میں جڑ پکڑ گیا بلکہ پھلنا پھولنا بھی شروع ہو گیا۔اس کی غالب وجہ وہ فلسفیانہ دور ہے جس میں مفکرین نے کھل کر گناہ اور دکھ کے مسئلہ کی بات کی جو عرصہ دراز سے انسان کو پریشان کئے ہوئے ہے۔مختلف زمانوں میں مذہبی دانشور ایک اچھے خدا پر ایمان کے عقیدہ کو درست ثابت کرنے کیلئے کئی قسم کی تو جیہات کرتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ اس عمومی دور میں ایتھنز میں بھی اسی مسئلہ نے مختلف اخلاقی، مذہبی اور سیکولر مفکرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کئے رکھی۔مسئلہ کا حل ان لوگوں کیلئے کچھ ایسا مشکل بھی نہ تھا کیونکہ ایتھنزر کے لوگوں کی اکثریت ان دیو مالائی دیوتاؤں کے وجود پر یقین رکھتی تھی جن کیلئے نہ صرف انسانوں کو بلکہ دیوتاؤں تک کو بھی دھوکا دینا ایک معمولی بات تھی۔کھولتی ہومر (Homer) کی ایلیڈ (Illiad) اس قسم کے مکار اور دھوکہ باز دیوتاؤں کی خوب قلعی کھولتی ہے۔انہی لوگوں میں سقراط نامی ایک توحید پرست فلسفی نے 470 قبل مسیح میں جنم لیا۔وہ فلسفیوں کے درمیان ایک پیغمبر اور پیغمبروں کے درمیان ایک فلسفی نظر آتا ہے۔وہ خدا کی وحدانیت پر غیر متزلزل یقین رکھتا تھا اور اس ذات کامل کے حسن و خوبی پر اسے ذرہ برابر بھی شک نہ تھا۔ایتھنز کے ایوان کے سامنے کی گئی اپنی آخری تقریر میں اس نے اسی بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ اس خدائے واحد پر یقین رکھتا ہے جو کامل خوبیوں کا مالک ہے اور یہ یقین اسے محض اپنی عقلی و فعلی کاوشوں سے حاصل نہ ہوا تھا بلکہ اس لئے کہ وہ اسے خود ذاتی طور پر بچپن سے جانتا تھا۔بالفاظ دیگر وہ خدا کی گود میں اس کی ذاتی شفقت اور حفاظت میں ہی پلا بڑھا تھا۔یہ سقراط ہی تھا جس نے اس مسئلہ کا منطقیانہ حل پیش کیا کہ خدا کی ذات کسی شر کا مبدا نہیں ہوسکتی۔جہاں تک دنیوی زندگی میں گناہ اور دکھ کا تعلق ہے اس نے منطقی اعتبار سے ثابت کیا کہ یہ سراسر انسانی غلطیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ان کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہو۔خدا تعالیٰ کے لئے ضروری