الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 154

152 زرتشت ازم ارادہ کو آزادانہ استعمال کرنے کا اختیار دیتی ہے۔لہذا انجام کار انسان اپنے اچھے اور برے اعمال اور ارادوں کے حوالہ سے پر کھا جائے گا۔انہوں نے یہ تعلیم بھی دی کہ کائنات روشنی کے دیوتا کی تخلیق ہے اور بالآخر نیکی کی قوتیں ہی غالب آئیں گی۔زرتشتی مذہب کے گہرے مطالعہ سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جسے ظلمت کا آزاد اور خود مختار دیوتا قرار دیا گیا ہے وہ بعینہ اس شیطان کے تصور کے مطابق ہے جو دیگر مذاہب مثلاً یہودیت، عیسائیت، اور اسلام میں پایا جاتا ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے کسی نہ کسی مرحلہ پر حضرت زرتشت علیہ السلام کے پیروکاروں نے ان کے فلسفہ خیر وشر کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہو اور نیکی اور بدی کو دو خود مختار اور برتر وجودوں کے طور پر قیاس کرنا شروع کر دیا ہو کیونکہ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔زرتشتی مذہب کے تصور محویت کی یہی روح ہے۔اس پر دوبارہ ایک نظر ڈالنے سے کسی دانشمند کے لئے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں رہتا کہ محض اصطلاحات کے فرق نے دونوں تصورات میں غلط فہمی پیدا کر دی ہے۔زرتشتی مذہب میں اہرمن کا کردار وہی ہے جو دوسرے مذاہب میں شیطان کا ہے۔غالب امکان یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زرتشتی مذہب کے ماننے والوں نے شیطان کے تصور کو ایک آزاد اور خود مختار دیوتا کی شکل دے کر اسے ظلمت کی قوتوں کا آقا قرار دے دیا اور اس پر طرہ یہ کہ غلطی پر غلطی کرتے ہوئے اہرمن یعنی بدی کے دیوتا کو خدائے واحد واعلیٰ اور خالق کل کا ازلی و ابدی شریک قرار دے دیا۔اس بات کا اندازہ لگانا ایک مشکل امر ہے کہ کب یہ غلط عقیدہ آہستہ آہستہ زرتشتی مذہب کی بنیاد بن گیا۔تاہم یہ بات یقینی ہے کہ حضرت زرتشت علیہ السلام کے ایک مثالی ہیروخورس (590 تا 529 ق م ) دو خداؤں کے قائل نہیں تھے۔زرتشتی مذہب میں ان کا مقام بدھ مت کی تاریخ میں مذکور اشوکا کے مقام سے بھی بلند تر ہے۔زرتشتی مذہب کا خورس کی ذات کے حوالہ سے تجزیہ بدھ مت کے اشوکا کی ذات کے آئینہ میں تجزیہ سے کچھ کم نہیں۔خورس کے موحد ہونے کا ثبوت وہ خراج تحسین ہے جو