الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 65

یونانی فلسفہ یونانی فلسفیوں میں سقراط کے علاوہ ایسے فلسفیوں کی تلاش جن پر نبی کی حقیقی تعریف اطلاق پاسکے اور جن کی ذات میں وحی الہی اور عقل انسانی دونوں پورے توازن کے ساتھ جلوہ فرما ہوں، ایک مشکل کام ہے۔سقراط (470 تا 399 ق م ) تو اپنی ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتا ہے۔یونانی فلسفہ کی تاریخ میں اسے جو مقام حاصل ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔سقراط سے پہلے اور بعد میں بھی انبیاء ضرور آتے رہے ہوں گے لیکن ان کے متعلق ہم کوئی رائے سقراط کے بالواسطہ اشاروں کنائیوں ہی سے قائم کر سکتے ہیں۔مثلاً سقراط کہتا ہے صرف وہی الہام الہی سے سرفراز نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے عظیم انسان گزرے ہیں جنہیں الہام الہی سے نوازا گیا تا کہ وہ نیکی اور بھلائی کے کام سرانجام دے سکیں۔اسی طرح وہ ایتھنز کے باشندوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے قتل نہ کرو ورنہ مجھے جیسا انسان تم پھر کبھی نہ دیکھ سکو گے سوائے اس کے کہ خدا تمہاری ہدایت اور رہنمائی کیلئے کسی اور کو مبعوث فرمائے۔سقراط کی ذات میں ہمیں الہام اور عقل کے مابین ایک کامل توازن نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ باب زیادہ تر سقراط اور اس کے فلسفہ کیلئے وقف ہے۔لیکن یہ ناممکن ہے کہ یونانی فلسفہ کی بات کرتے ہوئے افلاطون اور ارسطو کا ذکر نہ آئے۔در حقیقت افلاطون اور ارسطو نے ایک لازوال طرز فکر کی بنیاد رکھی لیکن ان دونوں کی عظمت اپنے قابل احترام استاد سقراط کی مرہون منت ہے۔یرستقراط ہی تھا جس نے اس دور کے فلسفیانہ مباحث میں علم ، سچائی اور عقل کو اتنے پر زور طریق پر متعارف کرایا کہ بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ بہت ارفع و اعلیٰ اور لطیف فلسفوں کو گویا آسمان سے اتار کر زمین پر لانے والا انسان ہے۔لیکن ہمارے نزدیک معاملہ اس کے برعکس ہے۔سقراط سے پہلے سو فسطائیوں کی لفظی موشگافیاں زمینی لوگوں کی اختراع تھیں۔علم ، سچائی اور 65