الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 64

64 فلسفة یورپ دیتا ہے۔ایک طرف آسمانی ہدایت سے عاری مجرد انسانی عقل ہے جو صرف اپنے بل بوتے پر تمام انسانی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔دوسری طرف اس کے بالمقابل الہامی صداقت ہے جو انسان کی بے راہ روی کے مقابلہ کیلئے ارفع اخلاقی قدروں کے کردار کو اہمیت دیتی ہے۔اول الذکر کا بغور جائزہ لینے سے صرف یہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ عقل فی ذاتہ انسان کو امن وسکون کی منزل تک لے جانے کیلئے قطعا نا کافی ہے۔تاریخ مذاہب کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ امن وسکون کا حصول صرف اسی وقت ممکن ہوا جب انبیاء نے انسان کی اخلاقی بے راہ روی کے خلاف جہاد کیا اور سخت جدو جہد اور جانفشانی کے نتیجہ میں معصیت سے بھری ہوئی دنیا میں کہیں کہیں پر امن معاشرہ تشکیل پانے لگا۔اگر چہ انسان دوبارہ ہوا ہوں کے طوفان میں گھر گیا، بایں ہمہ انسان کی اخلاقی اقدار کا معیار کچھ نہ کچھ ضرور بلند ہوا۔اگر ایسا نہ ہوتا اور الہامی تحریکات کے ذریعہ بنی نوع انسان کی اخلاقی اصلاح نہ کی جاتی تو معاشرہ اس سے کہیں بدتر حالت میں ہوتا جتنا آج نظر آتا ہے۔اس صداقت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ انسان کے لئے وحی والہام کی رہنمائی کتنی ضروری ہے۔حوالہ جات 1۔WESTFALL۔R۔C۔(1993) The Life of Issac Newton۔Cambridge University Press, Cambridge, p۔124 2۔WESTFALL, R۔C۔(1993) The Life of Issac Newton۔Cambridge University Press, Cambridge, p۔122 3۔WESTFALL, R۔C۔(1993) The Life of Issac Newton۔Cambridge University Press, Cambridge, p۔121 4۔GUTMAN, J۔(1963) Philosophy A to Z۔Grosset & Dunlap Inc, New York۔5۔IERNAN, T۔(1966) Who's Who In The History of Philosophy Vision Press, New York, p۔54 6۔COPLESTON, F۔(1956) Contemporary Philosophy۔Studies Logical Positivism and Existentialism۔Burns, Oates Washbourne Ltd۔, London, pp۔154-155 7۔SARTRE, J۔(1975) Existentialism and Humanism۔Eyre Methuen Ltd۔, London, p۔34 8۔LENIN, V, 1۔(1963) Collected Works۔Vol۔38, Philosophical Notcbooks۔Foreign Languages Publishing House, Moscow, p۔201