الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 66

66 یونانی فلسفه عقل ہی درحقیقت وہ عناصر ہیں جو انسانی افکار کو آسمانی رفعتوں سے ہمکنار کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اگر چہ افلاطون اور ارسطو نے ہمارے لئے تمام فلسفیانہ موضوعات پر ایک وسیع اور گہرا علمی ورثہ چھوڑا ہے لیکن جو شاندار اور دائی نقوش سقراط کے بلند کردار اور دیانتداری نے ثبت کئے ان کی مثال نہیں ملتی۔افلاطون اور ارسطو در اصل اسی کی تربیت کا پھل ہیں۔چنانچہ ان دونوں کے افکار کا اس باب میں مختصر تعارف دیا جا رہا ہے۔افلاطون اور ارسطو دونوں نظام کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے عقل کو فوقیت دیتے ہیں۔عقل اور خارجی دنیا کا باہمی تعلق کیا ہے؟ علم کیسے حاصل ہوتا ہے؟ اور ابدی صداقت کیا ہے؟ ان موضوعات پر دونوں عظیم فلسفیوں کے نظریات بہت مختلف ہیں۔افلاطون کے نزدیک خارجی دنیا کے اور اک کو آخری اور کامل صداقت سمجھنا غلط ہے۔کیونکہ کسی چیز کی حقیقت کا صحیح علم حاصل کرنے کیلئے اس کا سطحی مطالعہ نا کافی ہے۔اس کے خیال میں ہر خارجی مظہر (Phenomenon) کے اندر گہرے معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے جس تک رسائی محض سطحی تجزیہ کے ذریعہ نہیں ہوسکتی۔افلاطون نظر نہ آنے والی ایسی بادشاہت کو تسلیم کرتا ہے جسے ایک عظیم الشان باشعور ہستی تمام نظام کا ئنات کو قائم رکھنے کیلئے بہت سے ماتحت کارندوں کے ذریعہ چلا رہی ہے۔تاہم وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ نامعلوم حقائق کا علم حاصل کرنے میں الہام کوئی کردار ادا کرتا ہے۔اس کے نزدیک سچا علم صرف عقل اور وجدان کے باہمی اشتراک سے ہی حاصل ہوتا ہے۔عقل اور وجدان کے اس باہمی تعامل سے بعض اوقات بہت شاندار اور حیرت انگیز نتائج برآمد ہوتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں انسانی علم قدم بقدم آگے بڑھنے کی بجائے چھلانگیں لگاتا ہوا ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔نئے تصورات جنم افلاطون لے سکتے ہیں مگر یہ ہمیشہ انسان کے فکری عمل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ان کی حیثیت مفکرین کی عقل کی گہرائی پر منحصر ہوتی ہے۔افلاطون کے نزدیک عقل ایک ایسی جستجو اور تلاش کی متقاضی ہے جو تمام اقسام کے طبعی