الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 63

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 63 ریاستی قوت کی ضرورت نہ رہے گی۔تا ہم انسان کی حرص و ہوا کا دائر وصرف معاشی مسائل تک محدود نہیں۔اگر مارکسزم کے تمام مقاصد حاصل بھی ہو جائیں جب بھی انسانی حرص و ہوا کی اشتہاء کے لئے بہت کچھ باقی رہ جائے گا جسے مارکسی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔انسانی نفس اتنی خواہشات اور تمناؤں کو جنم دیتا ہے کہ اگر ان کو مدنظر نہ رکھا جائے تو کوئی بھی منصوبہ کیوں نہ ہو وہ انسانی مسائل کے حل میں ناکافی ثابت ہوگا۔انسانوں میں عدم مساوات صرف اقتصادی سطح پر ہی نہیں ہوتی بلکہ ان میں یہ فرق جسمانی یا ذہنی میلان اور رجحانات اور دل و دماغ کی صلاحیتوں میں عدم مساوات کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔حکمرانی، فتوحات، فرمانروائی ، غلبہ، محبت کرنے یا محبوب بننے کی اس کی جبلی خواہشات وہ چند ایک میدان ہیں جن کی زرخیز زمین میں انسانی حرص و ہوا کے بیج خوب جڑ پکڑتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔حسن و جمال ہی کو لے لیجئے۔نہ تو تمام انسان اس میں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی جسمانی صحت ایک سی ممکن ہے۔سماعت و بصارت کی صلاحیتیں، لمس اور ذائقہ کی قوتیں، پسند نا پسند کسی چیز کی خواہش یا اس سے بیزاری کے علاوہ فنون لطیفہ کے رجحانات مثلاً موسیقی کا ذوق یا فن سے لگاؤ یا ادبی ذوق اور اس کے بالمقابل ادب سے بیگانگی کا یہ عالم کہ مطالعہ کے شوقین جس ادب پارہ کے دیوانگی کی حد تک مشتاق ہوں اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا تک گوارا نہ ہو۔یہ چند مختصر مثالیں ہیں جن سے انسانی فطرت کے ان مختلف پہلوؤں کا پتہ چلتا ہے جو ارتقا کے ایک لمبے سفر کے بعد تخلیق ہوتے ہیں اور جن سے سائنٹفک سوشلزم کا کوئی بھی حامی چھٹکارا نہیں پاسکتا۔بس ان کو ایک حقیقت ثابتہ سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے۔مسئلہ یہ ہے کہ یہی تنوع انسانی معاشرہ کی بدعنوانی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ہر قسم کی معاشرتی برائیاں اس سے جنم لیتی ہیں۔ان رجحانات کی تہذیب و تعدیل کا واحد طریق وہ اخلاقی ضابطہ ہے جس کی بنیاد وحی الہی پر رکھی گئی ہو اور جس پر عمل کیلئے ہستی باری تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری ہو۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور الہام کے ذریعہ نازل ہونے والی صداقت کو انسانی معاملات سے نکال دیں تو معاشرہ میں امن وسلامتی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔مارکسزم کی ملحدانہ فلاسفی اور الہامی سچائی پر ایمان کا یہ گہرا تقابلی جائزہ اس امر کو مزید واضح کر