الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 62
62 فلسفة یورپ یوٹوپیا ( جنت ارضی) تک پہنچنے کے لئے معاشرہ کو ایسے خطر ناک رستوں سے گزرنا پڑتا ہے جہاں اخلاقیات اور رحمدلی نام کو نہیں۔نتیجہ یہ ہو گا کہ معاشرہ میں سیاسی اور اقتصادی مساوات کے قیام سے کہیں پہلے انسان کی اخلاقی قدروں سے بیگانگی اشترا کی نظریہ حیات کے خوشنما محل کو مسمار کر چکی ہوگی۔اس حوالہ سے جب ہم اشترا کی نظام کے زوال کا باعث بننے والے امور کا جائزہ لیتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اس کے کرتا دھرتا لوگوں کی اخلاقی ناکامی ہی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔سوویٹ یونین کی اشترا کی سلطنت کے زوال کی بڑی وجہ اشترا کی دنیا کی بدعنوانی ہے۔نا کامی تو اس وقت ہی اس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی جب اس کے منشور سے اخلاقی قدروں کو حذف کر دیا گیا تھا۔** ایک طرف تو الہامی سچائی ہے اور دوسری طرف وہ نام نہاد سچائی جس کی دریافت کا سہرا خالصہ انسانی عقل کے سر ہے۔دونوں فلسفوں کی خوبیوں کا موازنہ کچھ اتنا مشکل بھی نہیں۔بغیر کسی کے استثناء کے وحی الہی کا اعلان یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے معاملات میں عدل و انصاف کا قیام کامل اور مطلق عدل و انصاف کے بغیر ناممکن ہے۔مطلق انصاف پر مبنی ضابطہ اخلاق اور بدعنوانی دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔صداقت اخلاقیات کا بنیادی جو ہر ہے اور مطلق اخلاقیات اور مطلق صداقت با ہم لازم و ملزوم ہیں۔چنانچہ بنی نوع انسان میں اعلیٰ اخلاقی قدروں کے قیام کے بغیر جنت ارضی کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ہر زمانہ کی یہی عالمگیر آواز رہی ہے۔الہام پر مبنی صدیوں پرانے اس فلسفہ کی مخالفت کیلئے مارکس میدان میں اترا جسے اس نے یکسر رڈ کر دیا اور اس کے بالمقابل یہ دعویٰ کیا کہ انسان کو کسی آسمانی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک خدا تو سرے سے موجود ہی نہیں۔پس انسان کو اپنی جنت ارضی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے خود ہی راستہ بنانا ہو گا۔چنانچہ اس نے آسمانی ہدایت سے عاری خالصہ اپنی عقل و دانش کی مدد سے ایک راستہ بنانے کی کوشش کی ہے۔مارکس کے غیر طبقاتی معاشرہ کے اس تصور میں ایک اور بنیادی نقص موجود ہے جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے۔کسی ٹھوس بنیاد کے بغیر یہ فرض کر لیا گیا کہ اگر معاشرہ میں معاشی مساوات قائم ہو جائے تو جرم کی خود بخود بیخ کنی ہو جائے گی اور جرائم کے خاتمہ کیلئے کسی