الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 644
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 613 کرنے میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔سوروں کی اپنے بچوں کو کھا جانے کی فتیح عادت کو موجودہ زمانہ میں بچوں کے ساتھ نامناسب سلوک سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔بچوں سے بدسلو کی خواہ اپنے بچوں سے ہو یا اوروں کے بچوں سے، بہر حال ایک مشنز میرانہ خصلت ہے۔آج کل چونکہ یہ مسئلہ ہمارے معاشرہ میں عام بحث کا موضوع بن گیا ہے اس لئے اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔کسی اور جانور کو اس برائی میں انسانوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔انبیاء کا مقصد ہمیشہ برائی کے خلاف جہاد رہا ہے اس لئے اگر عیسی بن مریم کا آنا استعارہ خیال کیا جائے تو ان کی آمد کوئی عجیب بات نہیں۔لیکن وہ عیسی جنہیں ملایت نے بت بنا رکھا ہے اور جو لفظا سوروں کو قتل کریں گے ایسے ہی عیسی کی انہیں ضرورت ہے اور اس کیلئے وہ چشم براہ ہیں۔اور جونہی ان کی آنکھوں کا یہ تارا نازل ہو کر عالم حیوانات سے سوروں کا خاتمہ کر دے گا تو وہ زبر دست خراج تحسین کا حقدار ٹھہرے گا اور اس کے آخری پر شوکت اور جلالی ایام عزت و تکریم سے یاد کئے جائیں گے۔سمندروں، پہاڑوں اور وادیوں سے عیسی زندہ باد کا نعرہ بلند ہو گا۔آپ کی قتل و غارتگری پر گرجوں کی گھنٹیاں تو خاموش رہیں گی لیکن مسجد کے مینارے اس صدا سے ضرور گونج اٹھیں گے۔اللہ اکبر اللہ اکبر، ہمارا منجی عیسی زندہ باد بالآخر حضرت عیسی کو دنیا سے کوچ کرنے سے پہلے ایک اور اہم کام سرانجام دینا ہو گا جس کیلئے آپ کو ملاں کی مدد کی ضرورت پیش آئے گی۔بقول ان ملاؤں کے آپ کو ہمیشہ ہی ملاں کا مفاد پیش نظر رہا اور اب چاہئے کہ ملاں بھی کم از کم ایک مرتبہ تو حضرت عیسی کا خیال کرے۔ان عالمگیر کارناموں کے بعد آپ کا ملاں سے صرف اتنا مطالبہ ہو گا کہ وہ شادی کروانے میں ان کی مدد کریں۔اتنے قتل و غارت اور خونریزی کے بعد شادی ان کیلئے یقینا ایک بہت خوشگوار تبدیلی ہو گی۔اگر ملاں حضرات کو آسمانی پیشگوئیوں کو ظاہری معنوں میں لفظاً پورا کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اب انہیں حضرت عیسی کیلئے نہایت شاندار اور خوبرو دوشیزہ تلاش کرنی ہوگی جس سے حضرت عیسی کے ہاں اولا د بھی پیدا ہو۔لیجئے ! اب حضرت عیسی شادی کیلئے تیار ہیں۔لیکن اس مقدس کام کیلئے کسی بڑے ملاں کی ضرورت بھی ہو گی جو نکاح پڑھا سکے اور آپ کے ہونے والے سر