الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 645

614 حضرت عيسى عليه السلام اور ختم نبوت دریافت کرے کہ کیا وہ اپنی دختر نیک اختر کا ہاتھ حضرت عیسی کے ہاتھ میں دینے کے لئے راضی ہے۔؟ اس منظوری کے بعد بالآخر حضرت عیسی کی باری آئے گی جو اپنی رضا مندی ظاہر کریں گے۔یہ کتنی مسرت اور انبساط کے لمحات ہوں گے۔کتنی سرمستی کی حالت ہوگی۔دو ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ مجرد رہنے کے بعد آپ کھڑے ہوں گے اور فرمائیں گے ”مجھے قبول ہے۔میرے عزیز ملاں۔مجھے قبول ہے۔آپ کے کار ہائے نمایاں کا جشن منانے کیلئے اس سے بہتر اور کونسا طریق ہوسکتا ہے۔شمال سے جنوب مشرق سے مغرب ہر جگہ آپ کی تعریف میں گیت گائے جائیں گے۔اس خوشی کے موقع پر شادی کے نغمات کی سریلی آوازوں سے پوری فضا معمور ہو جائے گی۔اب حضرت عیسی کا صرف ایک یہ کام باقی رہ جائے گا کہ آپ اپنے پلوٹھے کی پیدائش کا انتظار کریں گے جس کے بعد مزید بیٹوں اور بیٹیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اس طرح دو ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عمر ہونے کے باوجود آپ کے ہاں بچوں کی پیدائش ان تمام معجزات سے بڑھ کر ایک معجزہ ہوگی جو آپ اُس وقت تک دکھا چکے ہوں گے۔آپ کی روح تو ہمیشہ سے توانا رہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا جسم بھی کچھ کم طاقتور نہ ہوگا۔کتنا عظیم الشان معجزہ ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ قوی سے قوی تر ہوتے چلے جائیں گے۔جبکہ آپ کا بڑھایا پہلی بعثت میں ہی کہیں دفن ہو چکا ہوگا۔بالآخر موت کی گھڑی آپہنچے گی لیکن یہ موت بھی کیسی شاندار اور قابل رشک ہو گی۔مبارک وہ دن جب آپ پیدا ہوئے اور مبارک وہ گھڑی جب آپ کی وفات ہوگی۔حضرت عیسی کی یہ وہ دلفریب داستان ہے جو اگر حقیقت کا روپ دھار لے تو ملاں حضرات تمام اسلامی مدارس میں اسے سال ہا سال نسلاً بعد نسل دہراتے چلے جائیں گے۔جاہل مادہ پرست علماء نے آسمانی پیشگوئیوں کا جو حشر کیا ہے مذہب کی پوری تاریخ میں اس سے زیادہ دلخراش مثال نہیں ملتی۔لیکن یہ بات صرف مسلم علماء سے ہی مخصوص نہیں ہے۔جب بھی کسی بھی جگہ ملائیت مذہبی نظام پر قابض ہو جاتی ہے تو وہ اسی طرح حقائق کو افسانوں اور دیو مالائی کہانیوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔جب انسان اپنے ایمان کو عقلِ سلیم اور شعور سے عاری ملائیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے جو صیح اور غلط میں امتیاز نہ کر سکے تو اسے ہمیشہ اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ملائیت کا کردار کچھ بھی کیوں نہ ہو معقولیت نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہیں پائی جاتی۔